انوارالعلوم (جلد 17) — Page 603
انوار العلوم جلد ۷ ۶۰۳ الموعود تیسرے اس طرح بھی میں تین کو چار کرنے والا ثابت ہوا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زندہ اولاد میں سے ہم صرف تین بھائی یعنی میں ، مرزا بشیر احمد صاحب اور مرزا شریف احمد صاحب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر ایمان رکھنے کے لحاظ سے آپ کے روحانی بیٹوں میں شامل تھے۔مرزا سلطان احمد صاحب آپ کی روحانی ذریت میں شامل نہیں تھے۔انہیں حضرت خلیفہ اول پر بڑا اعتقاد تھا مگر با وجود اعتقاد کے آپ کے زمانہ میں وہ احمدی نہ ہوئے لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ایک رؤیا سے معلوم ہوتا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے لئے ہدایت مقدر کی ہوئی ہے وہ رویا یہ ہے آپ نے دیکھا کہ۔”مرزا نظام الدین کے مکان پر مرزا سلطان احمد کھڑا ہے اور سب لباس سرتا پا سیاہ ہے۔ایسی گاڑھی سیاہی کہ دیکھی نہیں جاتی اُسی وقت معلوم ہوا کہ یہ ایک فرشتہ ہے جو سلطان احمد کا لباس پہن کر کھڑا ہے اُس وقت میں نے گھر میں مخاطب ہو کر کہا کہ یہ میرا بیٹا ہے“۔" آپ کا مرزا سلطان احمد صاحب کے متعلق یہ کہنا کہ ”یہ میرا بیٹا ہے بتا رہا تھا کہ اُن کے لئے آپ کی روحانی ذریت میں شامل ہونا مقدر ہے۔مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور پھر حضرت خلیفۃ امسیح الاوّل کے زمانہ میں وہ احمدیت میں داخل نہ ہوئے۔جب میرا زمانہ آیا تو اللہ تعالیٰ نے ایسے سامان کئے کہ وہ میرے ذریعے سے احمدیت میں داخل ہو گئے۔اس طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک بیٹے کو اللہ تعالیٰ نے غیر معمولی حالات میں میرے ہاتھ پر بیعت کرنے کی توفیق عطا فرمائی حالانکہ وہ میرے بڑے بھائی تھے اور بڑے بھائی کے لئے اپنے چھوٹے بھائی کے ہاتھ پر بیعت کرنا بہت مشکل ہوتا ہے چنانچہ بیعت کے بعد اُنہوں نے خود بتایا کہ میں ایک عرصہ تک اسی وجہ سے بیعت کرنے سے رُکتا رہا کہ اگر میں بیعت کرتا تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کرتا یا حضرت خلیفہ اول کی کرتا جن پر مجھے بڑا اعتقاد تھا اپنے چھوٹے بھائی کے ہاتھ پر کس طرح بیعت کرلوں مگر کہنے لگے آخر میں نے کہا یہ پیالہ مجھے پینا ہی پڑے گا۔چنانچہ اُنہوں نے میرے ہاتھ پر بیعت کی اور اس طرح خدا تعالیٰ نے مجھے تین کو چار کرنے والا بنا دیا۔کیونکہ پہلے روحانی لحاظ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ذریت میں ہم