انوارالعلوم (جلد 17) — Page 602
انوار العلوم جلد ۱۷ ۶۰۲ الموعود مسیح موعود علیہ السلام نے لعنت کی ہے اور دوسری طرف کہتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے بغیر الہام الہی کے مصلح موعود کی تعیین کی اور اس پیشگوئی کو مبارک احمد پر چسپاں کیا یہ کتنی کور باطنی ہے کہ ایک شخص مرید ہونے کا دعویٰ کرتا ہے مگر ایک طرف تو کہتا ہے کہ جو شخص بغیر الہام الہی کے مصلح موعود کی تعین کرتا ہے وہ لعنتی ہے اور دوسری طرف وہ اسی شخص کو جس کا وہ مرید ہے لکھتا ہے کہ اُس نے بغیر الہام الہی کے مبارک احمد کے متعلق تعیین کی اور کہا کہ وہ اس پیشگوئی کا مصداق ہے۔دوسرا اعتراض مولوی صاحب نے تین کو چار کرنے والے الہام پر بہت زور دیا ہے اور میرے متعلق لکھا ہے کہ یہ علامت اُن پر کسی طرح بھی چسپاں نہیں ہوسکتی۔میں جیسا کہ پہلے بھی بتا چکا ہوں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے خود لکھا ہے کہ اس کے معنی سمجھ میں نہیں آئے جب کہ آپ پر اس کے معنی ہی حل نہیں ہوئے تو اگر کسی جگہ آپ نے اس کے کوئی ایسے معنی لئے ہیں جو میرے خلاف پڑتے ہیں تو بہر حال وہ آپ کا ایک اجتہاد سمجھا جائے گا جسے اُن معنوں کے قطعی حل کی حیثیت سے پیش نہیں کیا جا سکے گا۔مگر مولوی محمد علی صاحب کی عادت ہے کہ اگر میرے خلاف کوئی حوالہ پڑتا ہو تو وہ کہتے ہیں کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایسا لکھ دیا ہے تو ہم اس کے خلاف کس طرح کہہ سکتے ہیں اور اگر میری تائید میں کوئی حوالہ ہو تو کہہ دیتے ہیں یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اجتہاد تھا اور اجتہاد میں غلطی ہو سکتی ہے حالانکہ اگر اجتہاد میں ایک جگہ غلطی ہوسکتی ہے تو دوسری جگہ کیوں نہیں ہوسکتی۔پھر یہ بھی صحیح نہیں کہ تین کو چار کرنے والے کی علامت مجھ پر چسپاں نہیں ہوتی۔میں خدا تعالیٰ کے فضل سے کئی رنگ میں تین کو چار کرنے والا ہوں۔اوّل اس طرح کہ مجھ سے پہلے مرزا سلطان احمد صاحب ، مرزا افضل احمد صاحب ، اور بشیر اول پیدا ہوئے اور چوتھا میں ہوا۔دوسرے اس طرح کہ میرے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے تین بیٹے ہوئے اور اس طرح میں نے اُن تین کو چار کر دیا یعنی مرزا مبارک احمد ، مرزا شریف احمد ، مرزا بشیر احمد اور چوتھا میں۔