انوارالعلوم (جلد 17) — Page 584
انوار العلوم جلد ۱۷ ۵۸۴ الموعود۔تیار ہوں کہ آپ کو پریذیڈنٹ تسلیم کروں دوسرے لوگوں نے بھی اس پر زور دیا اور آخر میں پریذیڈنٹ بن گیا کیونکہ خدا چاہتا تھا کہ میرے ذریعہ سے اسیروں کی رستگاری ہو اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی پیشگوئی پوری ہو۔جب میں صدر بنا تو اس کے بعد لارڈ ولنگڈن سے میں اس غرض سے ملا۔پہلے تو وہ بڑی محبت سے باتیں کرتے رہے جب میں نے کشمیر کا نام لیا تو وہ اپنے کوچ سے کچھ آگے کی طرف ہو کر کہنے لگے کہ کیا آپ کو بھی کشمیر کے معاملات میں انٹرسٹ ہے آپ تو مذہبی آدمی ہیں مذہبی آدمی کا ان باتوں سے کیا تعلق ہو سکتا ہے؟ میں نے کہا میں بے شک مذہبی آدمی ہوں اور مجھے مذہبی امور میں ہی دخل دینا چاہئے مگر کشمیر میں تو لوگوں کو ابتدائی انسانی حقوق بھی حاصل نہیں اور یہ وہ کام ہے جو ہر مذہبی شخص کر سکتا ہے بلکہ اُسے کرنا چاہئے اس لئے مذہبی ہونے کے لحاظ سے بھی اور انسان ہونے کے لحاظ سے بھی میرا فرض ہے کہ میں انہیں وہ ابتدائی انسانی حقوق دلواؤں جو ریاست نے چھین رکھے ہیں۔آپ اس بارہ میں کشمیر کے معاملات میں دخل دیں تا کہ کشمیریوں پر جو ظلم ہورہے ہیں اُن کا انسداد ہو۔وہ کہنے لگے آپ جانتے ہیں کہ ریاستوں کے معاملات میں ہم دخل نہیں دیتے۔میں نے کہا میں یہ جانتا تو ہوں مگر کبھی کبھی آپ دخل دے بھی دیتے ہیں۔چنانچہ میں نے کہا کیا حیدر آباد میں آپ نے انگریز وزیر بھجوائے ہیں یا نہیں ؟ کہنے لگے تو کیا آپ کو پتہ نہیں نظام حیدر آباد کیسا بُر امنا تا ہے؟ میں نے کہا یہی بات تو میں کہتا ہوں کہ آخر وجہ کیا ہے کہ نظام حیدر آباد بُرا منائیں تو آپ اُن کی کوئی پرواہ نہ کریں اور مہاراجہ صاحب کشمیر بُرا منا ئیں تو آپ اُن کے معاملات میں دخل دینے سے رُک جائیں۔یہ ہندو مسلم میں سوتیلے بیٹوں والا فرق آپ کیوں کرتے ہیں ؟ آخر یا تو وہ یہ کہہ رہے تھے کہ گورنمنٹ ریاستی معاملات میں دخل نہیں دے سکتی اور یا کہنے لگے کہ جب مجھے وائسرائے مقرر کیا گیا تھا تو وزیر ہند نے مجھ سے کہا کہ ہندوستان کی سیاسی حالت سخت خراب ہے کیا تم اس کو سنبھال لو گے؟ میں نے کہا کہ میں سنبھال تو لوں گا مگر شرط یہ ہے کہ مجھے چھ مہینہ کی مہلت دی جائے اور مجھ پر اعتراض نہ کیا جائے کہ تم نے کوئی انتظام نہیں کیا۔ہاں اگر چھ مہینے کے بعد بھی میں انتظام نہ کر سکا تو آپ بے شک مجھے الزام دیں۔انہوں نے کہا بہت اچھا۔