انوارالعلوم (جلد 17) — Page 581
انوار العلوم جلد ۱۷ ۵۸۱ الموعود صاحب اٹلی میں کام کرتے رہے ہیں اور چوہدری محمد شریف صاحب مصر، فلسطین اور شام میں تبلیغی خدمات سرانجام دے رہے ہیں اور مشرقی افریقہ میں شیخ مبارک احمد صاحب اور سماٹرا جاوا اور ملایا میں مولوی رحمت علی صاحب، مولوی محمد صادق صاحب ، مولوی غلام حسین صاحب ایاز ، ملک عزیز احمد صاحب اور سید شاہ محمد صاحب کام کر رہے ہیں۔اسی طرح مغربی افریقہ یعنی سیرالیون ، گولڈ کوسٹ اور نائیجیریا میں ہمارے بہت سے مبلغ کام کر رہے ہیں جن میں مولوی نذیر احمد صاحب ابن بابو فقیر علی صاحب ، مولوی نذیر احمد صاحب مبشر حکیم فضل الرحمن صاحب اور مولوی محمد صدیق صاحب امرتسری خاص طور پر ذکر کے قابل ہیں۔اس وقت ویسٹ افریقہ کے ایک نمائندہ دوستوں کے سامنے پیش ہو چکے ہیں۔اور اُنہوں نے اپنی زبان سے بتایا ہے کہ خدا تعالیٰ نے اس پیشگوئی کو کس طرح پورا کیا۔غرض جماعت کی قلت اور اس کی غربت کے باوجود اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدے کو پورا کیا اور اس نے میرے ذریعہ سے دنیا کے کناروں تک اسلام اور احمدیت کا نام روشن کیا۔اسیروں کی رستگاری ۴۔ایک پیشگوئی یہ کی گئی تھی کہ وہ اسیروں کی رستگاری کا موجب ہوگا۔اللہ تعالیٰ نے اس پیشگوئی کو بھی میرے ذریعہ سے پورا کیا۔اوّل تو اس طرح کہ اللہ تعالیٰ نے میرے ذریعہ سے اُن قوموں کو ہدایت دی جن کی طرف مسلمانوں کو کوئی توجہ ہی نہیں تھی اور وہ نہایت ذلیل اور پست حالت میں تھیں۔وہ اسیروں کی سی زندگی بسر کرتی تھیں۔نہ اُن میں تعلیم پائی جاتی تھی ، نہ اُن کا تمدن اعلیٰ درجے کا تھا ، نہ اُن کی تربیت کا کوئی سامان تھا جیسے افریقن علاقے ہیں کہ اُن کو دُنیا نے الگ پھینکا ہوا تھا اور وہ صرف بریگا را اور خدمت کے کام آتے تھے۔ابھی مغربی افریقہ کے ایک نمائندہ آپ لوگوں کے سامنے پیش ہو چکے ہیں اس ملک کے بعض لوگ تو تعلیم یافتہ ہیں لیکن اندرونِ ملک میں کثرت سے ایسے لوگ پائے جاتے ہیں جو کپڑے تک نہیں پہنتے تھے اور ننگے پھرا کرتے تھے ایسے وحشی لوگوں میں سے اللہ تعالیٰ کے فضل سے میرے ذریعہ ہزار ہا لوگ اسلام میں داخل ہوئے۔وہاں کثرت سے عیسائیت کی تعلیم پھیل رہی تھی اور اب بھی بعض علاقوں میں عیسائیوں کا غلبہ ہے لیکن میری ہدایت کے ماتحت ان علاقوں میں ہمارے مبلغ گئے اور انہوں نے ہزاروں