انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 28 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 28

انوار العلوم جلد ۱۷ ۲۸ بعض اہم اور ضروری امور (۱۹۴۳) کرنا پڑے۔گزشتہ نبیوں کی اُمتوں میں ہم یہ نظارے دیکھتے ہیں کہ گو وہ امن پسند تھیں کسی کے خلاف ہاتھ نہ اُٹھانا چاہتی تھیں لیکن مخالفوں نے انہیں مار مار کر مجبور کر دیا کہ اپنی حفاظت کی طرف متوجہ ہوں اور آخر وہ وقت آ گیا جب خدا تعالیٰ نے انہیں کہا تمہیں بھی اب مقابلہ کرنے کی اجازت ہے۔پس تمہیں کیا معلوم ہے کہ ہماری جماعت کیلئے کسی وقت ایسا ہی وقت آ جائے۔کیا اُس وقت تم دشمن کے پاس یہ میمورنڈم بھیجو گے کہ دیکھو ہم ایک امن پسند جماعت ہیں اگر ہم پر حملہ کرنا ہی ہے تو کم از کم پانچ چھ سال کی مہلت دو تا کہ ہم بھی جنگ کرنا سیکھ لیں پھر ہم لڑائی کر سکیں گے۔اگر تم ایسا کرو گے بھی تو اسے کون مانے گا۔یہ تو ایسی ہی بات ہے جیسی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سنایا کرتے تھے کہ کوئی بے وقوف بادشاہ تھا اُس نے ایک دن کہا کہ فوج پر خواہ مخواہ اتنا خرچ کرنا پڑتا ہے اور یہ کام کچھ نہیں دیتی اسے موقوف کر دیا جائے۔چنانچہ فوج برخواست کر دی گئی۔کسی نے کہا کہ اگر موقوف کر دیا گیا تو پھر دشمن کا مقابلہ کون کرے گا۔بادشاہ نے کہا کہ اگر ایسا وقت آ گیا تو مقابلہ کیلئے ملک کے قصابوں کو جمع کر کے بھیج دیں گے۔جب پاس کے کسی بادشاہ کو یہ معلوم ہوا کہ اس بادشاہ نے فوج موقوف کر دی ہے تو اُس نے اس ملک پر حملہ کر دیا۔اس کے مقابلہ کیلئے قصابوں کو کہا گیا کہ اپنی چھریاں اور چھرے لے کر جاؤ اور مقابلہ کرو۔قصاب چلے تو گئے لیکن تھوڑی ہی دیر بعد بھاگتے ہوئے آئے که فریاد! فریاد! بادشاہ سلامت! اِن لوگوں کو روکا جائے کہ اس طرح جنگ نہ کریں ہم تو اُن میں سے کسی ایک کو پکڑ کر باقاعدہ زمین پر لٹاتے ہیں اور پھر بِسمِ اللهِ اللهُ اَكْبَرُ کہ کروبی کرتے ہیں لیکن وہ بے تحاشہ مارتے جاتے ہیں کچھ دیکھتے ہی نہیں۔اُنہیں کہا جائے اس طرح بے تحاشہ قتل نہ کریں اتنے میں حملہ آوروں نے آ کر بادشاہ کو بھی مار دیا اور ساری حکومت پر قبضہ کر لیا۔پس ایسی قو میں جو اپنی حفاظت کا سامان نہیں کرتیں ہلاک کر دی جاتی ہیں کیونکہ بے سروسامانی اور کمزوری ایسا جرم ہے جو کبھی معاف نہیں کیا جا تا۔کمزوری کی حالت میں تم اگر کسی کی طرف منہ کر کے پھونک بھی مارو گے تو یہ کہہ کر تمہیں مجرم گردانا جائے گا کہ معلوم ہوتا ہے تمہیں جادو کرنا آتا ہے اور اس طرح تم دوسروں کو نقصان پہنچانا چاہتے ہو۔یا پھر یہ کہیں گے کہ تمہارے اس طرح کرنے سے چونکہ دوسروں کو اشتعال آتا ہے اس لئے تم قصور وار ہو۔