انوارالعلوم (جلد 17) — Page 27
انوار العلوم جلد کا ۲۷ بعض اہم اور ضروری امور (۱۹۴۳ ) وہ اگر دشمن سے کہے کہ میں تم کو چھوڑتا ہوں اور تم پر وار نہیں کرتا تو اس کی کیا وقعت ہوسکتی ہے۔ہمیں لڑائی کا فن آتا ہو ہم تلوار ، بندوق ، توپ مشین گن چلانا جانتے ہوں ، اعلیٰ درجہ کے ہتھیار بنا سکتے ہوں اور اپنے پاس ہتھیار رکھتے ہوں پھر حملہ آور سے کہیں لو مارلوہم ہاتھ نہیں اُٹھاتے بلکہ تم سے محبت ہی کا اظہار کرتے ہیں تب قابل تعریف بات ہے۔دیکھو ایک بچہ اگر کسی پہلوان سے کہے کہ تم بے شک مجھے مارلو میں تم پر ہاتھ نہیں اُٹھاتا تو یہ ہنسی کی بات ہو گی مگر ایک مضبوط پہلوان کو کوئی کمزور مارنا چاہے اور پہلوان اُسے کہے بے شک تم مجھے مارلو میں تمہیں کچھ نہیں کہوں گا تو یہ قابل تعریف بات ہوگی۔اسی طرح جب ہم میں طاقت ہو ، ہمارے پاس ہتھیار ہوں، ہم ہتھیار چلانا جانتے ہوں اور پھر یہ کہیں کہ ہمارے تو خدا نے ہاتھ باندھے ہوئے ہیں ہم ہاتھ نہیں اُٹھا ئیں گے تب اس کا اچھا اثر پڑے گا۔دفاع کیلئے فنون سپہ گری سیکھنے کی ضرورت اسی لئے میں نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا ہے کہ ہماری جماعت کے لوگوں کو فنون سپہ گری سے واقفیت حاصل کرنی چاہئے اور اس کیلئے جو بھی موقع میسر آئے اُس سے فائدہ اُٹھانا چاہئے۔جب ہم ایسا کر لیں گے اُس وقت اپنی گردنیں مخالف کے ظلم وستم کے سامنے جھکا دیں گے اور کہیں گے کہ ہم اس رنگ میں تمہارا مقابلہ تو کر سکتے ہیں مگر تمہاری محبت اور تمہاری خیر خواہی ہمیں تم پر ہاتھ نہیں اُٹھانے دیتی تب لوگوں کے دل ہماری طرف مائل ہوں گے اور اُن کی گردنیں ہمارے سامنے جھکیں گی۔اس طرف میں نے بار بار جماعت کو توجہ دلائی ہے مگر جماعت کا ایک حصہ ابھی تک فوج میں بھرتی ہونے کو ملازمت کرنا سمجھتا ہے حالانکہ ہم نوکری اور ملازمت کی خاطر بھرتی ہونے کیلئے نہیں کہتے بلکہ اس لئے کہتے ہیں کہ جو احمدی بھرتی ہو کر جائیں وہ فنونِ جنگ سیکھ کر آئیں تا کہ ضرورت کے وقت وہ کچی اور مؤثر قربانی کرسکیں اور کوئی یہ نہ کہے کہ احمدی تشدد کا مقابلہ اس لئے نہیں کرتے کہ ان میں طاقت نہیں بلکہ یہ سمجھیں کہ وہ طاقت رکھتے ہوئے اس لئے ہاتھ نہیں اُٹھاتے کہ ان کو تعلیم یہی دی گئی ہے۔پھر میں جماعت کے دوستوں کو اس طرف توجہ دلاتا ہوں اور کہتا ہوں کہ غور تو کرو۔اس بات کا کون ذمہ دار ہے کہ ہم پر وہ وقت کبھی نہیں آئے گا جب ہمیں اس رنگ میں دنیا کا مقابلہ