انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 557 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 557

انوار العلوم جلد ۱۷ ۵۵۷ الموعود رہتے ہیں اور اُن کی کوشش ہوتی ہے کہ میں بھی ان باتوں میں اُلجھ جاؤں یا کفر و اسلام وغیرہ مسائل میں کوئی کمزوری دکھاؤں یا غیر احمدیوں کے جنازہ کے متعلق یا اُن کے رشتہ ناطہ کے متعلق کوئی ایسی بات کہہ دوں جو میرے عقائد کے خلاف ہومگر میں ایسے لغوا مور پر اپنے وقت کو ضائع کرنے کے لئے تیار نہیں ہوں۔اگر صفائی نیت کے ساتھ سیدھے طور پر بحث کرنے کے لئے وہ تیار ہوں تو مجھے اُن سے بحث کرنے پر کوئی اعتراض نہیں۔لیکن اگر وہ لغو شرائط اور بیہودہ باتیں پیش کرنا شروع کر دیں تو میں اُن شراط کی طرف توجہ نہیں کر سکتا کیونکہ میرے خدا نے مجھے ان باتوں سے منع کیا ہوا ہے۔یہی بات میں نے رویا میں دیکھی تھی کہ جب میں چلا تو راستے میں ایک بڑا جنگل آ گیا اور مختلف قسم کی رُوحوں نے مجھے اپنے مقصد سے منحرف کرنے کی کوشش کی اور بعض نے مجھے گالیاں دینی شروع کر دیں مگر میں نے اُن کی طرف کوئی توجہ نہ کی۔پھر بڑھا تو عجیب عجیب شکلوں نے میرے سامنے ناچنا گودنا شروع کر دیا۔کسی کا منہ جانور کا تھا اور دھڑ انسان کا اور کسی کا دھڑ انسان کا تھا مگر سر گدھے کا۔میں نے پھر بھی توجہ نہ کی اور یہ یہی کہتا چلا گیا کہ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ اس رویا پر میں نے ہمیشہ عمل کیا اور اب بھی میرا عمل اسی کے مطابق ہے۔اگر میں شکست خوردہ ہوں، اگر میں میدانِ مقابلہ سے بھاگنے والا ہوں، اگر میں بہانے بنا بنا کر بحثوں کو ٹالنے والا ہوں تو مخالفین کو آخر سوچنا چاہئے کہ وجہ کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ جس کو بھی لاتا ہے میرے پاس لاتا ہے۔وہ ہمارے راستہ میں اِس طرح بیٹھے ہوئے ہیں جس طرح منکرین انبیاء کے راستہ میں بیٹھا کرتے ہیں۔مگر اِس کے باوجود اُن کی طرف کوئی توجہ نہیں کرتا اور جو بھی آتا ہے میرے پاس آتا ہے۔وہ کہتے ہیں کہ لوگ پیر پرست تھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بیٹے کو جب اُنہوں نے خلیفہ بنتے دیکھا تو فوراً اُسے مان لیا۔مگر میں کہتا ہوں وہ لوگ تو ساری جماعت کا دسواں حصہ بھی نہیں ہیں۔اگر انہوں نے پیر پرستی کی وجہ سے مجھے مان لیا تھا تو سوال یہ ہے کہ اب جو لوگ غیروں میں سے لاکھوں کی تعداد میں آ رہے ہیں یہ کونسی پیر پرستی کی وجہ سے آ رہے ہیں۔یہ تو تمہاری باتیں سُن کر اور تمہارے فتووں کو پڑھ کر میری طرف آئے ہیں اور ان کی تعداد ان لوگوں سے کئی گنا زیادہ وو ہے جن کے متعلق یہ کہا جاتا ہے کہ وہ پیر پرستی کی وجہ سے میری بیعت میں شامل ہوئے تھے۔