انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 26 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 26

انوار العلوم جلد ۷ ۲۶ بعض اہم اور ضروری امور (۱۹۴۳) گاڑی اور تعاقب کرنے والے جرمن دستہ کے درمیان پہنچ گئے ہیں۔اس دوران میں کو چوان نے گاڑی کو دریا میں ڈال دیا اور گاڑی دریا میں گزر کر اُس جگہ جہاں میں کھڑا تھا آ گئی۔اُس وقت ساری برطانوی حکومت سے تالیوں کی گونج سنائی دی اور باوجود اس کے کہ یہ ہما را طریق نہیں ہے اور ہم اسے اسلام کے خلاف سمجھتے ہیں مگر میرے ہاتھ بھی تالی بجانے لگ گئے اور میں نے دو تین دفعہ تالی بجائی۔میں نے خیال کیا کہ ممکن ہے شاہی خاندان کے بعض افراد کو خطرات پیش آئیں اور وہ مشکلات دیکھیں کیونکہ ایک فرد سے مراد اُس سے تعلق رکھنے والے اور افراد بھی ہوتے ہیں۔بہر حال ان خوابوں سے میرے دل میں جو انقباض تھا وہ جاتا رہا اور میں نے سمجھا بہر حال اتحادیوں کی فتح ہمارے لئے مفید ہے خواہ ہمیں ان سے کچھ تکلیفیں بھی پہنچیں پس اس وقت ہمیں ساری کوشش ان کو مدد دینے کے لئے کرنی چا ہے۔رؤیا میں مجھے دریا دکھایا گیا ہے ممکن ہے بعض دریاؤں پر بڑی سخت لڑائی ہو اور اب اٹلی میں ایسا ہی ہو رہا ہے۔پس میں دوستوں کو ان خوابوں کی بناء پر توجہ دلاتا ہوں کہ ہماری جماعت کے نو جوانوں کو چاہئے کہ شوق کے ساتھ اور کثرت سے بھرتی ہوں ہم نے دنیا کو فتح کرنا ہے۔بے شک تلوار کے ذریعہ نہیں کیونکہ ہم نے تلوار نہیں چلانی مگر تلوار کھانی تو ہے اور اسلام نے دفاع کا بھی حکم دیا ہے۔وہ یہ نہیں کہتا کہ کسی جگہ پر حملہ کرو مگر یہ ضرور کہتا ہے کہ اپنے آپ کو بچاؤ اور حفاظت کے لئے اپنے پاس ہتھیار رکھو اور اُن کو چلانا سیکھو تا کہ جب دشمن تم پر حملہ کرے تو تم اپنی حفاظت کر سکو اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تو اسے ایسا ضروری قرار دیا ہے کہ مسجد میں جہاں ذکر الہی کے ہوا اور کوئی کام جائز نہیں اس میں فنونِ جنگ کی مشق کرائی ہے۔ایک دفعہ آپ تیراندازی کا مقابلہ کرا رہے تھے کہ آپ خود بھی ایک پارٹی میں شامل ہو گئے۔یہ دیکھ کر دوسری پارٹی نے کمانیں پھینک دیں کہ ہم آپ کا مقابلہ نہیں کر سکتے اس پر آپ نے تیر چلانا چھوڑ دیا۔تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جو فنونِ جنگ سے اتنا شغف تھا تو اس کی وجہ یہی تھی کہ جرات اور دلیری ہتھیاروں کے استعمال سے ہی پیدا ہوتی ہے۔پھر ہتھیار چلا سکنے والا ، دشمن پر ہتھیار نہ چلائے بلکہ درگزر سے کام لے تو اس کا بہت اثر ہوتا ہے ورنہ جو ہتھیار چلانا نہیں جانتا