انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 544 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 544

انوار العلوم جلد ۱۷ ۵۴۴ الموعود قرآن کریم کے کوئی رکوع نکال لو۔اگر اللہ تعالیٰ کی یہی مرضی ہوگی کہ آیت خاتم النبیین یا آیت اسمة احمد کی تفسیر کی جائے تو قرعہ میں یہی آیات نکل آئیں گی۔انہیں گھبرانے اور پریشان ہونے کی کیا ضرورت ہے وہ سیدھی طرح مقابلہ میں آئیں اور قرعہ کی تجویز کو منظور کر لیں جو رکوع بھی قرعہ کے نتیجہ میں نکل آیا اُس کی میں تغییر لکھ دوں گا۔اور اگر وہ قرعہ کی تجویز کو بھی منظور نہیں کرتے تو اس کے صاف معنی یہ ہیں کہ اُن کو اپنے دلوں میں یقین ہے کہ خدا میرے ساتھ ہے۔اگر ہم نے قرعہ بھی ڈالا تو وہی آیات نکلیں گی جن کی تفسیر اس کو اچھی آتی ہو گی لیکن ہمیں ان کی تفسیر نہیں آتی ہوگی اور اگر یہ بات نہیں تو وہ ڈرتے کیوں ہیں۔قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے اور اس کے کئی سو رکوع ہیں وہ قرعہ ڈال لیں پھر جو بھی آیات نکل آئیں گی میں اُن کی تفسیر لکھنے کے لئے تیار ہوں۔اگر قرعہ کا طریق نظر انداز کر دیا جائے اور جیسا کہ مولوی محمد علی صاحب کہتے ہیں اُن آیات کی تفسیر لکھی جائے جن کے معانی میں ہم میں اور غیر احمد یوں میں اختلاف پایا جاتا ہے تو یہ لازمی بات ہے کہ اُس تفسیر کے متعلق فیصلہ کرنے میں اُن کا دماغ آزاد نہیں ہو گا۔اور وہ آسانی سے فیصلہ نہیں کر سکیں گے کہ کس کی تفسیر زیادہ اعلیٰ ہے۔لیکن اگر اختلافی مسائل سے تعلق رکھنے والی آیت نہ ہو تو اُس کی تفسیر کے متعلق اُن کا دماغ آزاد ہو گا اور آسانی سے وہ فیصلہ کر سکیں گے کہ میری تفسیر زیادہ اعلیٰ درجے کی ہے یا مولوی محمد علی صاحب کی تفسیر زیادہ اعلیٰ درجے کی ہے۔قرعہ میں یہ بھی کوئی شرط نہیں کہ اگر آیت خاتم النبین اسمة احمد نکلی تو اس کی تفسیر نہیں لکھی جائے گی۔اگر وہ سمجھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی تائید اُن کو حاصل ہے تو کیوں وہ خدا تعالیٰ پر یہ یقین نہیں رکھتے کہ خدا تعالیٰ قرعہ میں اُن کے حسب منشاء آیات نکلوا دے گا اور اس طرح اُن کے غلبہ اور تفوق کے سامان پیدا فرما دے گا۔اُن کا بار بار ایسی ہی آیات کو تفسیر کے لئے پیش کرنا جن کے متعلق ہم میں اور غیر احمدیوں میں اختلاف پایا جاتا ہے بتا تا ہے کہ وہ اپنے دلوں میں اس حقیقت کو خوب جانتے ہیں کہ ہم تفسیر میں مقابلہ نہیں کر سکتے اسی لئے وہ ان آیات کی پناہ ڈھونڈتے ہیں جن میں ہمارا غیراحمدیوں کے ساتھ اختلاف پایا جاتا ہے تا کہ اگر وہ معارف یا علوم کے لحاظ سے غالب نہ آ سکیں تو کم از کم غیر احمدیوں کی تائید تو اُن کو حاصل ہو جائے۔دوسرے اُن کا قرعہ سے گھبرانا اور اس طریق کو