انوارالعلوم (جلد 17) — Page 539
انوار العلوم جلد ۱۷ ۵۳۹ الموعود قرآن کریم اور کاغذ قلم ، دوات لے کر ہم ایک دوسرے کے سامنے بیٹھ جائیں اور قرآن کریم کی تفسیر لکھیں۔مجھے اُن کی اِس بات سے ہمیشہ یہ شبہ پیدا ہوتا ہے کہ غالباً اُن کو یہ یقین ہے کہ مجھے قرآن کریم کا ترجمہ نہیں آتا۔اگر سادہ قرآن کریم میرے ہاتھ میں دے دیا گیا تو میں کہوں گا کہ اب میں کیا کروں مجھے تو ترجمہ ہی نہیں آتا، میں تفسیر کس طرح لکھوں۔حالانکہ جب میں قرآن کریم کی تفسیر کے متعلق چیلنج دے رہا ہوں اور دنیا کے تمام علماء سے کہتا ہوں کہ اگر اُن میں ہمت ہے تو وہ میرا مقابلہ کر لیں ، تو انہیں سمجھنا چاہئے کہ قرآن کریم کا ترجمہ تو مجھے بہر حال آتا ہو گا مگر معلوم ہوتا ہے مولوی ثناء اللہ صاحب با وجود اس کے کہ میری طرف سے تفسیر نویسی کا چیلنج دیا جا رہا ہے سمجھتے ہیں کہ اگر میرے پاس سادہ قرآن ہوا تو میں کچھ نہ لکھ سکوں گا۔بہر حال وہ ہمیشہ یہی بات پیش کر کے خاموش ہو جاتے ہیں حالانکہ میرا اصل چیلنج جو پہلے بھی شائع ہو چکا ہے اور اب بھی قائم ہے، یہ ہے کہ:۔غیر احمدی علما مل کر قرآن کریم کے وہ معارف روحانیہ بیان کریں جو پہلے کسی کتاب میں نہیں ملتے اور جن کے بغیر روحانی تکمیل ناممکن تھی۔پھر میں اُن کے مقابلہ پر کم سے کم ڈگنے معارف قرآنیہ بیان کروں گا جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے لکھے ہیں اور اِن مولویوں کو تو کیا کو جھنے تھے پہلے مفسرین و مصنفین نے بھی نہیں لکھے۔اگر میں کم سے کم دُگنے ایسے معارف نہ لکھ سکوں تو بے شک مولوی صاحبان اعتراض کریں۔طریق فیصلہ یہ ہو گا کہ مولوی صاحبان معارف قرآنیہ کی ایک کتاب ایک سال تک لکھ کر شائع کر دیں اور اِس کے بعد میں اُس پر جرح کروں گا جس کے لئے مجھے چھ ماہ کی مدت ملے گی۔اس مدت میں جس قدر باتیں اُن کی میرے نزدیک پہلی کتب میں پائی جاتی ہیں اُن کو میں پیش کروں گا۔اگر ثالث فیصلہ کر دیں کہ وہ باتیں واقعہ میں پہلی کتب میں پائی جاتی ہیں تو اُس حصہ کو کاٹ کر صرف وہ حصہ اُن کی کتاب کا تسلیم کیا جائے گا جس میں ایسے معارف قرآنیہ بیان ہوں جو پہلی کتب میں نہیں پائے جاتے۔اس کے بعد چھ ماہ کے عرصہ میں ایسے معارف قرآنیہ حضرت مسیح موعود کی کتب سے یا آپ کے مقرر کردہ اصول کی بناء پرلکھوں گا جو پہلے کسی