انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 533 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 533

انوار العلوم جلد ۱۷ ۵۳۳ الموعود سلسلہ میں مجھ پر سب سے زیادہ احسان حضرت خلیفہ مسیح الاوّل کا ہے۔ آپ چونکہ طبیب بھی تھے اور اس بات کو جانتے تھے کہ میری صحت اس قابل نہیں کہ میں کتاب کی طرف زیادہ دیر تک دیکھ سکوں اس لئے آپ کا طریق تھا کہ آپ مجھے اپنے پاس بٹھا لیتے اور فرماتے میاں ! میں پڑھتا جاتا ہوں تم سنتے جاؤ۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ بچپن میں میری آنکھوں میں سخت ککرے پڑ گئے تھے اور متواتر تین چار سال تک میری آنکھیں دُکھتی رہیں اور ایسی شدید تکلیف مگروں کی وجہ سے پیدا ہو گئی کہ ڈاکٹروں نے کہا اس کی بینائی ضائع ہو جائے گی ۔ اس پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے میری صحت کے لئے خاص طور پر دعائیں کرنی شروع کر دیں اور ساتھ ہی آپ نے روزے رکھنے شروع کر دیئے۔ مجھے اس وقت یاد نہیں کہ آپ نے کتنے روزے رکھے۔ بہر حال تین یا سات روزے آپ نے روزے آپ نے رکھے ۔ جب آخری روزے کی آپ افطاری کرنے لگے اور روزہ کھولنے کے لئے منہ میں کوئی چیز ڈالی تو یکدم میں نے آنکھیں کھول دیں اور میں نے آواز دی کہ مجھے نظر آنے لگ گیا ہے لیکن اِس بیماری کی شدت اور اس کے متواتر حملوں کا نتیجہ یہ ہوا کہ میری ایک آنکھ کی بینائی ماری گئی ۔ چنانچہ میری بائیں آنکھ میں بینائی نہیں ہے۔ میں رستہ تو دیکھ سکتا ہوں مگر کتاب نہیں پڑھ سکتا ۔ دو چارفٹ پر اگر کوئی ایسا آدمی بیٹھا ہو جو میرا پہچانا ہوا ہو تو میں اُس کو دیکھ کر پہچان سکتا ہوں لیکن اگر کوئی بے پہچانا بیٹھا ہو تو مجھے اُس کی شکل نظر نہیں آ سکتی ۔ صرف دائیں آنکھ کام کرتی ہے مگر اُس میں بھی مکرے پڑ گئے اور ایسے شدید ہو گئے کہ کئی کئی راتیں میں جاگ کر کاٹا کرتا تھا ۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے میرے اُستادوں سے کہہ دیا تھا کہ اس کی پڑھائی اس کی مرضی پر ہوگی ۔ یہ جتنا پڑھنا چاہے پڑھے اور اگر نہ پڑھے تو اس پر زور نہ دیا جائے کیونکہ اس کی صحت اس قابل نہیں کہ یہ پڑھائی کا بوجھ برداشت کر سکے ۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بارہا مجھے صرف یہی فرماتے کہ تم قرآن کا ترجمہ اور بخاری حضرت مولوی صاحب سے پڑھ لو۔ اس کے علاوہ آپ نے مجھے کچھ اور پڑھنے کے لئے کبھی کچھ نہیں کہا۔ ہاں آپ نے یہ بھی فرمایا تھا کہ کچھ طب بھی پڑھ لو کیونکہ یہ ہمارا خاندانی فن ہے ۔ ماسٹر فقیر اللہ صاحب جن کو خدا تعالیٰ نے اسی سال ہمارے ساتھ ملنے کی توفیق عطا فرمائی ہے وہ ہمارے حساب کے استاد تھے اور لڑکوں کو سمجھانے کے لئے بورڈ پر