انوارالعلوم (جلد 17) — Page 499
انوار العلوم جلد ۱۷ ۴۹۹ الموعود جن کی شہرت دینا کے کناروں تک پھیلی ہوئی ہے۔مثلاً ہمیں اس سے ہرگز انکار نہیں کہ مسٹر چرچل ، مسٹر ایڈن ، لارڈ ہیلی فیکس یا مسٹر روز ویلٹ وغیرہ کو تمام دنیا میں شہرت حاصل ہے اگر ان میں سے کسی کا نام کوئی شخص پیش کر دے یا مسٹر سٹالن کا نام لے اور کہے کہ تم نے کونسی نرالی پیشگوئی کی ہے یہ لوگ دنیا میں ایسے موجود ہیں جو بین الاقوامی شہرت کے مالک ہیں تو ہمارا جواب یہ ہوگا کہ بیشک اِن لوگوں کو اور اِسی طرح اور بیسیوں لوگوں کو شہرت حاصل ہوئی مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو پیشگوئی فرمائی ہے اُس میں یہ ذکر آتا ہے کہ آپ کے ہاں ایک ایسا بیٹا پیدا ہو گا جو دینِ اسلام کی خدمت اور قرآن کو پھیلا نے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت کے اظہار کی وجہ سے ساری دنیا میں مشہور ہو گا حالانکہ دین ایک ایسی چیز ہے جسے آج دنیا میں سب سے زیادہ نفرت اور حقارت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور اسلام وہ مذہب ہے جس کی طرف آج کسی کو بھی توجہ نہیں اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہ رسول ہیں جن کی آج سب سے زیادہ تحقیر کی جاتی ہے لیکن آپ فرماتے ہیں اس دین کی غلامی کرتے ہوئے ، اس مذہب کی اشاعت کرتے ہوئے اور اس پاک رسول کے نام کو بلند کرتے ہوئے وہ ساری دنیا میں شہرت پائے گا اور زمین کے کناروں تک عزت کی نگاہوں سے دیکھا جائے گا۔ان شرائط کوملحوظ رکھتے ہوئے کوئی شخص بتا دے کہ گزشتہ پچاس یا سو سال میں سے کسی ایک شخصر نے ہی اسلام کی خدمت کرتے ہوئے دنیا کے کناروں تک شہرت حاصل کی ہو اور قوموں نے اُس سے برکت پائی ہو۔اگر ایک ارب دنیا کی آبادی سمجھی جائے اور چھپیں سال ایک نسل کی اوسط عمر سمجھی جائے تو اس کے معنی یہ بنتے ہیں کہ چار ارب آدمیوں میں سے ایک مثال بھی ایسی پیش نہیں کی جاسکتی کہ کسی نے دین کی خدمت کرتے ہوئے ساری دنیا میں شہرت حاصل کی ہو اور جو مثال اتنی نایاب ہو کہ چار ارب میں سے کوئی ایک شخص بھی اس پر پورا نہ اتر سکتا ہوا سے انسانی واہمہ یا قیاس کا نتیجہ کس طرح کہا جا سکتا ہے۔اگر ایسی پیشگوئی کی جائے تو ہر سمجھدار انسان کو ماننا پڑے گا کہ یہ پیشگوئی قیاس سے نہیں کی گئی کیونکہ اس میں ایسی شرائط موجود ہیں جو چار ارب میں سے کسی ایک پر پوری نہیں ہوسکتیں۔پھر فرماتے ہیں۔جو لوگ مسلمانوں میں چھپے ہوئے مرتد ہیں وہ آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کے