انوارالعلوم (جلد 17) — Page 486
انوار العلوم جلد ۱۷ ۴۸۶ الموعود مسلمان ایسے ہیں جو دوسرے علاقوں سے وہاں آئے ہوئے ہیں اصل باشندے نہیں۔پس انہوں نے درخواست کی ہے کہ ایک مبلغ جو کم سے کم بی اے ہو اور اگر ایم اے ہو تو زیادہ اچھا ہے اُس علاقہ میں تبلیغ کیلئے بھجوایا جائے۔سو انشَاءَ اللہ اس سال وہاں ایک گریجوایٹ مبلغ بھیجوانے کی کوشش کی جائے گی تا کہ وہ عیسائیت کا مقابلہ کرے۔تفسیر القرآن کے متعلق اعلان میں یہ بھی اعلان کرنا چاہتا ہوں کہ اس وقت قرآن کریم کی تفسیر کی دو جلد میں تیار ہو رہی ہیں۔ایک جلد آخری پارہ کی ہے جو نصف کے قریب ہو چکی ہے اور ایک جلد پہلے پارہ کی ہے جو نصف سے زیادہ ہو چکی ہے۔میں امید کرتا ہوں کہ اگر اللہ تعالیٰ کا فضل شاملِ حال ہوا تو جلسہ سالانہ کے بعد دو چار ماہ کے اندر اندر آخری پارہ کی تفسیر لکھی جائے گی اور پھر دو تین مہینہ کے اندر شائع کر دی جائے گی۔اس کے بعد انشَاءَ اللہ پہلے پارہ کی تفسیر شائع کی جائے گی۔پہلے میرا منشاء تھا کہ ابتدائی پانچ پاروں کی تفسیر اکٹھی شائع ہو مگر جب تفسیر لکھنے لگا تو پہلے پارہ کی تفسیر ہی بہت بڑھ گئی کیونکہ شروع میں بہت سے مضامین کو کھول کر بیان کرنا پڑتا ہے اور اس کے لئے زیادہ وضاحت کی ضرورت ہوتی ہے۔پھر میں نے ارادہ کیا کہ سورہ بقرہ کی تفسیر ایک جلد میں شائع ہو جائے مگر اس ارادہ کو بھی منسوخ کرنا پڑا کیونکہ ابھی تک نصف پارے سے کچھ او پر تفسیر لکھی گئی ہے اور چھ سو سے زیادہ صفحات ہو چکے ہیں اگر اگلے نصف حصہ کی تفسیر کو مختصر کر دیا جائے تو بھی آٹھ نوسو بلکہ ہزار صفحہ تک ایک پارہ کی تفسیر پہنچ جائے گی اور اگر سورہ بقرہ کی تمام تفسیر کو پہلی جلد میں شامل کیا جائے تو دو ہزار صفحات سے کم میں یہ تفسیر نہیں آسکے گی۔پچھلی تفسیر جب شائع ہوئی تو بعض نوابوں کی طرف سے مجھے پیغام پہنچا کہ ہمیں تفسیر پڑھنے کا بڑا شوق ہے مگر ہماری عادت یہ ہے کہ ہم سوتے وقت کتاب پڑھتے ہیں کوئی ہلکی سی کتاب ہوئی اُسے سینہ پر رکھ لیا اور پڑھنا شروع کر دیا۔پڑھتے پڑھتے جب نیند آ گئی تو سو گئے مگر آپ نے اتنی بڑی کتاب لکھ دی ہے کہ سینہ پر اُسے رکھنے سے درد شروع ہو جاتا ہے اور ہم اسے نہیں پڑھ سکتے۔اگر آپ نے تفسیر ہمیں بھی پڑھانی ہے تو ڈیڑھ ڈیڑھ، دو دو سو صفحہ کی کتاب لکھیں جو آسانی سے ہم لوگ پڑھ سکیں اور آسانی سے اُٹھا بھی سکیں اتنی بڑی کتاب نہ اُٹھائی جاتی ہے نہ