انوارالعلوم (جلد 17) — Page 485
انوار العلوم جلد ۱۷ ۴۸۵ الموعود اس وقت وہاں ہماری جماعت کی طرف سے صرف مڈل سکول قائم ہیں اور مغربی افریقہ کے قانون کے مطابق مڈل پاس لڑکوں کو معمولی ملازمتیں تو مل جاتی ہیں مگر اچھی ملازمتیں نہیں ملتیں ہمارے ہاں تو آجکل مڈل بلکہ انٹرنس کا بھی کوئی سوال نہیں لیکن ایک زمانہ ہندوستان پر بھی ایسا گزرا ہے جب مڈل پاس لڑکوں کو یہاں ملازمتیں مل جاتی تھیں اور وہاں ابھی وہی زمانہ ہے۔وہ لوگ تعلیم میں بہت پیچھے ہیں بلکہ وہاں کے باشندوں کا ایک حصہ ایسا ہے جو نگا پھرا کرتا تھا پھر احمدی مبلغوں کے زور دینے پر انہوں نے کپڑے پہننے شروع کئے۔وہاں چونکہ جماعت کے لڑکوں کو تعلیم حاصل کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے اور اُنہیں تحریک کی جاتی ہے کہ وہ جماعت کے مدارس میں داخل ہوں اور ہمارے مدرسوں میں انگریزی کی وہ اعلیٰ تعلیم نہیں دی جاتی جو دوسرے عیسائی مدرسوں میں دی جاتی ہے اس لئے ملازمتوں کے معاملہ میں ہماری جماعت کو نقصان پہنچ رہا ہے اور اعلیٰ درجہ کی ملازمتیں ہماری جماعت کے نو جوانوں کو نہیں ملتیں۔اب تجویز یہ ہے کہ لنڈن میٹرک یا سینئر کیمبرج کے اصول پر وہاں ایک سکول جاری کیا جائے۔جس میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد لڑ کے ان امتحانات کو پاس کر کے اعلیٰ درجہ کی ملازمتیں حاصل کر سکیں۔واقفین میں سے ایک نوجوان کو اس غرض کے لئے مقرر کر دیا گیا ہے اور وہ پاسپورٹ حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔وہ پہلے انگلستان میں تعلیم حاصل کرنے کے لئے جائیں گے اور جب وہ تعلیم سے فارغ ہو جائیں گے تو انہیں ویسٹ افریقہ میں مقرر کر دیا جائے گا۔امید ہے کہ وہ دو تین ماہ تک یہاں سے انگلستان روانہ ہو جائیں گے۔مغربی افریقہ کیلئے ایک اور مبلغ کا مطالبہ ایک اور درخواست افریقہ سے میرے پاس پرسوں ہی پہنچی ہے جس کا مجھے پہلے علم نہیں تھا۔میں نے مغربی افریقہ میں جو مبلغین بھجوائے ہیں اُن کے علاوہ حکیم فضل الرحمن صاحب مبلغ نے ایک اور مبلغ کا بھی مطالبہ کیا ہے وہ لکھتے ہیں کہ نائیجریا کے ایک حصہ میں عیسائی مشنوں نے اتنا کام کیا ہے کہ قریباً سب کے سب لوگ عیسائی ہو چکے ہیں۔چنانچہ جو وہاں کے اصل باشندے ہیں اُن میں سے بمشکل ایک فیصدی کوئی مسلمان نظر آئے گا ورنہ سب کے سب عیسائی ہیں۔آبادی کے لحاظ سے بیشک آٹھ دس فیصدی مسلمان ہیں مگر وہ