انوارالعلوم (جلد 17) — Page 478
انوار العلوم جلد ۱۷ ۴۷۸ بعض اہم اور ضروری امور ( ۱۹۴۴ ء ) بائیں دومست اونٹ ہیں جو مجھ پر حملہ آور ہونے لگے ہیں اور مجھ سے سوائے اس کے کچھ جواب نہ بن پڑا کہ ٹھہرئیے ابھی لا دیتا ہوں۔چنانچہ میں نے رقم لا کر اُس شخص کو دے دی۔مدینہ کی زندگی میں ایک دفعہ آنحضرت ﷺ سے کسی نے حلف الفضول کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سنا ہے آپ بھی اس میں شامل ہوئے تھے آپ نے فرمایا ہاں اگر جاہلیت کی کسی ایسی ہی چیز کی طرف جس طرح کہ حلف الفضول تھی مجھے بلایا جائے تو میں اُس کو ضرور قبول کروں اور اُس میں شامل ہوں۔تو یہ رویا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ میری اولا د تباہ نہیں ہو گی اگر وہ حلف الفضول کا معاہدہ کرے۔گورویا میں میں نے اپنے بیٹوں کو دیکھا مگر اولاد سے مراد روحانی اولا د بھی ہوتی ہے اور جب میں نے رویا میں اپنی اولا د کو مخاطب کیا تو گویا روحانی اولا دکو خطاب کیا ہے۔اس رؤیا کے شائع ہونے کے بعد بعض دوستوں نے اپنے نام اس میں شامل ہونے کے لئے مجھے لکھے مگر میں نے مناسب نہ سمجھا کہ اس تحریک کو شروع کروں اور یہی مناسب سمجھا کہ میں ایسے وقت میں اس کی تحریک کروں گا جب میری روحانی اولاد کا ایک کثیر حصہ سامنے ہوگا۔سواب کہ خدا تعالیٰ نے آپ لوگوں کو یہاں جمع کیا ہے اور مجھے آپ لوگوں کے لئے بمنزلہ والد بنایا ہے اور آپ لوگ میری روحانی اولاد ہیں میں آپ کے سامنے حلف الفضول والا معاہدہ پیش کرتا ہوں مگر اس کیلئے کچھ شرطیں ہیں جو میں بیان کرتا ہوں کیونکہ ہر ایک اس بار کو نہیں اُٹھا سکتا۔معاہدہ یہ ہوگا کہ :۔اس میں شریک ہونے والا یہ عہد کرے گا کہ وہ اپنی زندگی میں ہمیشہ مظلوم کی مدد کرے گا خواہ مظلوم اُس کا یا اُس کی اولاد کا دشمن ہی کیوں نہ ہو۔وہ اس میں کسی قرابت اور دوستی کی پروا نہیں کرے گا اور مظلوم خواہ اُس کا دشمن ہی کیوں نہ ہو اُس کی حمایت کرے گا اور اگر جماعت کے دوست ایسا معاہدہ کریں تو جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے رویا میں بتایا ہے وہ تباہ نہیں ہوگی۔جو اس معاہدہ میں شامل ہونا چاہے اُس کے لئے ضروری ہے کہ سات دن تک مسلسل بغیر ناغہ کے