انوارالعلوم (جلد 17) — Page 474
انوار العلوم جلد ۱۷ ۴۷۴ بعض اہم اور ضروری امور (۱۹۴۴ ء ) انہوں نے پڑھے ہیں تو وہ سمجھ سکتے ہیں کہ دنیا پر ایسی مصائب آنے والی ہیں کہ چھوٹی چھوٹی قوموں کا زندہ رہنا مشکل ہو جائے گا۔اور اگر یورپ اور ایشیا میں پیدا ہونے والے حالات اور واقعات ہندوستان میں بسنے والے لوگوں کی آنکھیں کھولنے کیلئے کافی نہیں ہیں تو میں سمجھتا ہوں کہ یہ لوگ دنیا میں زندہ رہنے کے بھی قابل نہیں ہیں۔اسی طرح انگریزوں کے گردو پیش جو حالات پیدا ہور ہے ہیں اُن کے پیش نظر ضروری ہے کہ انگریزیت اور ہندوستانیت کے سوال کو کسی نہ کسی طرح جلد از جلد حل کر لیا جائے۔اس وقت دونوں کی زندگی کا انحصار ایک دوسرے کی اعانت پر ہے اور اگر دیانتداری سے دونوں نے اپنے اختلافات دُور کرنے کی کوشش نہ کی تو بہت ہی تھوڑے عرصہ کے بعد دونوں کی زندگی خطرہ میں پڑ جائے گی اور پھر دونوں کو بیٹھ کر رونا ہوگا۔اس سوال کی زیادہ وضاحت تو میں نہیں کر سکتا مگر پرانی کتب میں بھی ایسی پیشگوئیاں موجود ہیں اور میرے بعض کشوف بھی یہی ظاہر کرتے ہیں کہ دنیا کیلئے بہت نازک دن آنے والے ہیں۔میں زیادہ وضاحت سے اس بات کو یہاں اس لئے بیان نہیں کر سکتا کہ ممکن ہے بعض انگریز افسروں کے نزدیک میرا ایسا کرنا مناسب نہ ہو۔یہاں جو ایک انگریز افسر آتے ہیں وہ بالعموم تیسرے درجہ کے ہوتے ہیں وہ خود بھی اعلیٰ درجہ کے سیاست دان نہیں ہوتے اور فوراً اعتراض کا پہلو ان کو نظر آنے لگتا ہے اس کا ہمیں پہلے بھی تجربہ ہو چکا ہے۔میں نے ایک دفعہ ایک مضمون لکھا جو الفضل میں شائع ہوا تھا تو پنجاب سی آئی ڈی نے رپورٹ کی کہ یہ مضمون ضبط ہونا چاہئے بہت خطرناک ہے۔مگر اُس زمانہ میں جو صاحب پنجاب کے گورنر تھے وہ چونکہ ذاتی طور پر مجھے جانتے تھے اُنہوں نے کہا کہ نہیں ایسے آدمی نہیں کہ اِن کے مضامین قابل ضبطی ہوں۔وہی مضامین ہمارے ایک بنگالی رسالہ میں ترجمہ ہو کر شائع ہوئے تو وہاں کی حکومت نے ایڈیٹر و پر نٹر کو نوٹس دیا کہ ایسے خطر ناک مضامین کیوں شائع کئے گئے ہیں؟ اور حکم دیا کہ آئندہ سنسر کرا کر مضمون شائع کیا کرو۔اُنہوں نے بہتیرا کہا کہ ہماری جماعت ایسی جماعت نہیں ہے کہ اس پر حکومت کی مخالفت کا مبہ کیا جائے مگر کسی نے اس بات پر غور نہ کیا۔لیکن وہی مضامین جب ولایت میں پہنچے تو ہمارے مبلغ نے ان کا انگریزی میں ترجمہ کر کے وہاں کے بڑے بڑے سیاسی آدمیوں کو بھجوایا تو انہوں نے بہت پسند کیا۔لارڈ زیلینڈ نے