انوارالعلوم (جلد 17) — Page 18
انوار العلوم جلد ۱۷ ۱۸ مستورات سے خطاب (۱۹۴۳ء) ہے۔ صلى الله جائے اس سے بڑھ کر اور کون خوش قسمت ہو سکتا ہے ۔ پھر فرماتا ہے ان شَانِئَكَ هُوَ الأَبْتَرُ ال اے محمد ! رسول اللہ ﷺ اس خیر کثیر کا ! نتیجہ یہ ہوگا کہ تیرا دشمن جو تیرے مقابلہ میں کھڑا ہو گا وہ ناکام و نامراد ہوگا۔ جب تم اس مقام پر پہنچ جاؤ تو پھر تمہیں دشمن کی کوئی پروا نہیں ہو سکتی تم کامیاب ہو جاؤ گی تمہارے دشمنوں کی جڑیں کاٹ دی جائیں گی اور سب لوگ تمہارے مقابلے میں شکست کھا جائیں گے ۔ کوثر والا مؤمن بڑی شان والا ہوگا اور بادشاہوں کا بادشاہ ہو جائے گا۔ اُس کا ہر دشمن ذلیل و خوار ہوگا۔ صلى الله وسام رسول کریم علی کو ایک دفعہ گرفتار کرنے کے لئے ایران کے بادشاہ نے سپاہی بھیجے۔ قاصدوں نے کہا کہ آپ کو ایران کے بادشاہ نے بُلایا ہے ۔ آپ چُپ چاپ ہمارے ساتھ چلیں ۔ آپ نے فرمایا تین دن کے بعد جواب دوں گا ۔ آپ تین دن دعا میں لگے رہے ۔ تین دن کے بعد فرمایا جاؤ! اپنے بادشاہ سے کہہ دو میرے خدا نے تمہارے خدا کو مار دیا۔ وہی دن تھا اور وہی تاریخ کہ اس بادشاہ کے بیٹے نے اپنے باپ پ کے ظلموں کی وجہ سے اسے قتل کر دیا۔ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ہم نے تجھ کو خیر کثیر دی ہے۔ اگر تم دنیا میں نیکی کرو گے، عبادت کرو گے تو میں تمہارا محافظ ہوں گا۔ میں تمہارے ساتھ ہوں گا اور نگران ہوں گا ۔ تم ہمیشہ کامیاب ہو گے جو تمہاری بُرائی چاہے گا میں اس کی جڑیں کاٹ کر پھینک دوں گا۔ اب میں دعا کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ ہمارے مردوں اور عورتوں کو اس خیر کثیر سے حصہ دے۔ دنیا کی بہتری کیلئے قربانیاں کرنے کی توفیق دے اور دشمنوں کی شرارتوں سے محفوظ رکھے۔ آمین از مصباح جنوری ۱۹۴۴ء ) بخاری کتاب المغازی باب اِذْهَمَّتُ طَائِفَتَانِ مِنْكُمْ (الخ) الكوثر : ۲ اقرب الموارد الجزء الثانى صفحه ۱۰۶۸ مطبوعہ بیروت ۱۸۸۹ء سیرت ابن هشام جلد ا صفحه ۱۱۹ ، ۱۲۰ مطبوعہ مصر ۱۲۹۵ھ