انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 460 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 460

انوار العلوم جلد ۱۷ ۴۶۰ بعض اہم اور ضروری امور (۱۹۴۴ ء ) کام کرنا بہت مشکل ہے کیونکہ ملیر یا بہت ہے اور مچھر بہت ہیں۔راستے بھی دشوار گزار ہیں مگر مولوی صاحب ان سب مشکلات کے باوجود بہت محنت سے کام کرتے ہیں اور انہوں نے بعض علاقوں میں جو بالکل جنگلی ہیں سو سو اور دو دو سو میل لمبے سفر پیدل کئے ہیں گو وہ اس کے عادی نہ تھے۔اس مقامی مبلغ نے لکھا تھا کہ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ مجھے بھی ایسی قربانی کی توفیق عطا فرمائے۔اور ہمارے مبلغین کی ان جانفشانیوں کا نتیجہ ہے کہ ان ممالک میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے احمدیت کو ترقی حاصل ہو رہی ہے اور کالے چمڑے والے قیامت کے دن سفید شکلوں میں اُٹھیں گے۔ان کے دل نور ایمان سے منور ہو رہے ہیں اور امید ہے کہ اللہ تعالیٰ کا نور اِس ملک پر وسیع طور پر پھیل جائے گا اور گری ہوئی اقوام جلد ترقی کریں گی۔ٹا نگانیکا میں نئی احمد یہ مسجد تعمیر ہوئی ہے اور مدرسہ بھی کھل چکا ہے وہاں بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے ترقی کے آثار ظاہر ہورہے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایسی بیداری پیدا ہو رہی ہے کہ حکومت نے کہا ہے کہ اگر جماعت احمدیہ حبشیوں کی آبادی میں سکول کھولے تو وہ مدد دے گی اور وہاں کے تاجروں نے جو غیر احمدی ہیں ہزاروں روپیہ کی امداد کا وعدہ کیا ہے چنانچہ وہاں سکول کھولنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔حبشہ میں سب سے پہلے ڈاکٹر نذیر احمد صاحب کو تبلیغ کی توفیق اللہ تعالیٰ نے دی تھی تو اُن کی تبلیغ سے تو اس ملک کا کوئی باشندہ احمدی نہ ہوا تھا مگر فلسطین کے مبلغ نے اطلاع دی ہے کہ رسالہ البشریٰ پڑھ کر حبشہ کے ایک صاحب احمدی ہوئے ہیں جو مصری پولیس میں انسپکٹر تھے اور اب ریٹائر ہو چکے ہیں اور سوڈان میں رہتے ہیں۔گویا وہ تین ملکوں سے نسبت رکھتے ہیں حبشہ کے باشندہ ہونے کی وجہ سے ، مصری حکومت میں ملازمت کرنے کی وجہ سے اور سوڈان میں بود و باش رکھنے کی وجہ سے۔سوڈان میں پہلے بھی ایک دوست احمدی تھے احمدیت کی وجہ سے وہاں اُن کو دکھ دیئے گئے اس لئے وہ عدن آگئے تھے۔جنگ کی وجہ سے بعض احمدی ایسے سینیا گئے اور اُن کو تبلیغ کا موقع ملا اور اس طرح جنگ کے نتیجہ میں بھی اللہ تعالیٰ نے مفت تبلیغ کے راستے ہمارے لئے کھول دیئے۔ایک اور نوجوان جزیرہ لگا دیپ کے رہنے والے اب قادیان آئے ہیں۔سٹریٹ سیٹلمینٹس اور ہندوستان کے درمیان بعض چھوٹے چھوٹے جزیرے ہیں ان میں سے