انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 17 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 17

انوار العلوم جلد ۷ ۱۷ مستورات سے خطاب (۱۹۴۳ ء )۔ہے۔ہماری اولاد نہیں ہے یا ہماری جائداد نہیں ہے یا ہمارے خاوند کا رتبہ بڑا نہیں ہے یا ہمارے پاس دنیا کے علوم نہیں مگر تم کو وہ چیز ملی ہے جو دنیا کے بادشاہوں کو نہیں ملی۔سینکڑوں بادشاہ اس خزانے سے محروم ہیں۔اُن کی اولادیں، اُن کے رشتہ دار، اُن کی عزتیں سب کی سب اس دنیا میں موت سے پہلے ختم ہو جائیں گی۔فرشتے آئیں گے تو انہیں کوڑے لگائیں گے کہ نکالو اپنی جانیں۔وہ لوگ اسی دنیا میں اپنی چیز میں چھوڑ کر چلے جائیں گے مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ جو چیز تم کو ملی وہ آخرت میں بھی تمہارے ساتھ جائے گی۔خدا تعالیٰ نے عزت کے وہ خزانے تمہیں دیئے ہیں کہ جو کبھی ختم نہ ہوں گے۔وہ لوگ جو سردار کہلاتے ہیں ، آقا کہلاتے ہیں، حاکم کہلاتے ہیں دوزخ میں ہاتھ پھیلا پھیلا کر کہیں گے کہ ہمیں ایک قطرہ پانی دے دو مگر مؤمن کہیں گے ہمیں خدا نے اجازت نہیں دی۔پس ہر وہ شخص جس کو خدا کی طرف سے خیر کثیر ملی ہے اُس کا فرض ہے کہ زیادہ سے زیادہ عبادت میں مصروف رہے۔دا نحز اور زیادہ سے زیادہ قربانیاں کرنے والا ہو۔خدا نے تم کو خیر کثیر دی ہے جس کے مقابلہ کی دنیا میں اور کوئی چیز نہیں۔دو چیزیں ہیں جن کا خدا تعالیٰ مطالبہ کرتا ہے نماز سے اُس کا شکر یہ ادا کر و یعنی قدردان ادا اور شکر گزار بنو اور پھر وہ انسان جن کو اِس خیر کثیر سے حصہ نہیں ملا اُن کو دینے کی کوشش کرو۔بنی نوع انسان کی اصلاح کی کوشش کرو۔اُن کی حالت کو سدھارنے کے لئے اپنے او پر مشقتیں برداشت کرو۔جو شخص دین کی خدمت کرتا ہے وہ مال دار ہے۔اُسی کے پاس سونا ہے، اُسی کے پاس چاندی ہے جس کے پاس یہ نہیں وہ کنگال اور بھوکا ہے۔وہ ایک لمبا عذاب مرنے کے بعد اُٹھانے والا ہے۔پس تم اپنی زندگی میں ایک تبدیلی پیدا کرو۔عورتیں نماز میں بہت سستی کرتی ہیں۔عبادت تو خدا اور بندے کے درمیان تعلق پیدا کرنے کا ذریعہ ہے۔تم اپنے خاوندوں کے متعلق شکایت کرتی ہو کہ وہ باہر رہتے ہیں باتیں کرنے کا موقع نہیں ملتا۔مگر خدا خود کہتا ہے کہ آؤ میرے ساتھ باتیں کرو۔وہ محسن اور حسین ہے۔کیا تمہارا خاوند اتنی محبت کر سکتا ہے جتنی کہ خدا کرنے والا ہے؟ جس مؤمن کو کوثر مل جائے اور اُس کے احکام پر عمل کرنے کا اُسے موقع مل