انوارالعلوم (جلد 17) — Page 456
انوار العلوم جلد ۱۷ ۴۵۶ بعض اہم اور ضروری امور ( ۱۹۴۴ ء ) اس میں حصہ لینے کا موقع دیا جائے گا مگر ابھی اس تحریک کا موقع نہیں۔اگر اس مسجد کو بڑھایا گیا تو میرا خیال ہے اس پر پچاس ہزار روپیہ بلکہ ممکن ہے ایک لاکھ روپیہ خرچ ہو۔اب جن عمارات کو اس میں شامل کر کے اسے وسعت دی جاسکتی ہے وہ بہت قیمتی جائدادیں ہیں۔اس لئے اسے وسیع کرنے پر کافی خرچ آئے گا اور جب اس کا موقع آئے گا میں تحریک کر دوں گا اور باہر کی جماعتوں کو اس میں شامل ہونے کا موقع دیا جائے گا۔اس سال میں نے یہ تحریک بھی کی تھی کہ ہندوستان کے سات اہم مقامات پر مساجد تعمیر کرنا چاہئیں یعنی پشاور، لاہور، کراچی، دہلی، بمبئی ، مدراس اور کلکتہ میں۔اور یہ تحریک بھی خدا تعالیٰ کے فضل سے کامیاب ہو رہی ہے۔دہلی کے دوستوں کو اللہ تعالیٰ نے توفیق دی اور سب نے ایک ایک ماہ کی آمد چندہ میں دی اور اس طرح اس مد میں تیس ہزار روپیہ کے وعدے ہو چکے ہیں اور کچھ روپیہ امانت فنڈ سے دے دیا گیا ہے۔دو کنال زمین خرید لی گئی ہے جس کی قیمت پچاس ہزار روپیہ ہے یہ نواب پٹواری کی جائداد ہے۔ستر ہزار روپیہ عمارت کی تعمیر پر خرچ ہونے کا اندازہ ہے۔یہ جگہ جو خریدی گئی ہے یہاں پہلے عیسائیوں کا مشن بنا تھا۔مجھے اس سلسلہ میں ایک بات یاد آئی جس سے بہت لطف آیا۔قریباً تمیں سال پہلے مولوی محمد علی صاحب کی کوٹھی پر ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب نے ہائی سکول اور بورڈنگ کی عمارتوں کی طرف اشارہ کر کے کہا تھا کہ ہم تو قادیان سے جا رہے ہیں لیکن دس سال نہیں گزریں گے کہ ان عمارتوں پر عیسائیوں کا قبضہ ہو جائے گا۔اُن کی یہ بات تو خدا تعالیٰ نے غلط ثابت کر دی اور ہمیں توفیق دی کہ دہلی میں عین اُس مقام پر ہم مسجد بنا رہے ہیں جہاں سب سے پہلے عیسائیوں نے اپنا مشن قائم کیا تھا اور اس طرح بجائے اس کے کہ عیسائی ہماری عمارتوں پر قبضہ کر سکتے ہم کو اللہ تعالیٰ نے وہ جگہ دے دی جہاں اُنہوں نے پہلے اپنا مشن قائم کیا۔امید ہے کہ ایک لاکھ ہیں ہزار روپیہ میں وہاں ایک مسجد اور ایک ہال تعمیر ہو جائے گا۔میرا تو اندازہ تھا کہ کم سے کم سوالاکھ یا ڈیڑھ لاکھ روپیہ خرچ ہو گا مگر دہلی کے دوستوں نے بتایا ہے کہ بعض تجاویز ایسی ہیں کے اِنْشَاءَ اللہ انہیں سامان سستا مل سکے گا اور اس طرح بہت جلد وہاں مسجد ، ہال اور ایک مہمان خانہ تعمیر ہو سکے گا اور ہندوستان کے سیاسی مرکز میں ہمارا تبلیغی مرکز قائم ہو جائے گا۔