انوارالعلوم (جلد 17) — Page 450
انوار العلوم جلد ۱۷ ۴۵۰ بعض اہم اور ضروری امور ( ۱۹۴۴ ء ) کوP۔H۔D کی ڈگری حاصل ہوئی ہے اور اب وہ D۔S۔C کا امتحان دینے والے ہیں۔بعض نوجوان ابھی چھوٹی جماعتوں میں تعلیم پارہے ہیں اور ا بھی کہا نہیں جا سکتا کہ کب تیار ہوں گے بہر حال اس کے لئے بہت اخراجات کی ضرورت ہوگی۔لیکن اللہ تعالیٰ کے فضلوں سے امید ہے کہ وہ اسے مکمل کرا دے گا اور کوئی نہ کوئی ایسے ذرائع پیدا کر دے گا کہ یہ کام اچھی طرح چل سکے اور ہم اس کے ذریعہ ایک مضبوط ریز رو فنڈ قائم کرنے میں کامیاب ہوسکیں گے۔اس کے علاوہ یہ ادارہ تبلیغ کا بھی ایک مؤثر ذریعہ ہوگا اس سے ہم یورپ اور امریکہ کی توجہ کو اپنی طرف منعطف کر اسکیں گے اس کام کی طرف مجھے اس لئے بھی توجہ ہوئی کہ ساری قو میں سائنس میں ترقی کر رہی ہیں اور ایسے ادارے قائم کر کے اپنی اپنی قوم کی مادی ترقی میں کوشاں ہیں مگر مسلمانوں کا کوئی ایسا ادارہ نہیں ہے حالانکہ قرآن کریم نے توجہ دلائی ہے کہ نیچر کے مسائل پر غور کرنا چاہئے مگر مسلمان اس سے غافل تھے۔اس لئے میں نے ضروری سمجھا کہ ہم ہی اسے شروع کر دیں۔سر دست یہ کام قرض لے کر شروع کر دیا گیا ہے۔تجارتی تنظیم اس کے ساتھ یہ بھی ضروی ہے کہ جماعت کی تجارتی تنظیم بھی ہو جائے۔اس کے بارہ میں میں نے ایک خطبہ بھی پڑھا تھا مگر عمر بھر میں میرا کوئی اور خطبہ ایسا نہیں جس پر اس قدر بے تو جہی سے جماعت نے کام لیا ہو جتنا اس پر لیا ہے۔باہر سے کسی تاجر کا کوئی خط نہیں آیا جس میں کوئی مشورہ دیا گیا ہو یا تعاون پر آمادگی کا اظہار کیا گیا ہو۔میری زندگی کا یہ پہلا تجربہ ہے کہ جو تحریک جماعت کو مخاطب کر کے کی گئی اُس پر کوئی توجہ نہیں ہوئی۔ممکن ہے اس کی ایک وجہ یہ بھی ہو کہ میں نے کہا تھا کہ اس کیلئے مرکز میں ایک ادارہ قائم کر دیا جائے گا۔مگر وجہ خواہ کچھ ہو عملی طور پر ہوا یہی ہے کہ بعض ایسے تجربہ کارلوگوں نے جن کا تجارت کے پیشہ کے ساتھ کوئی بھی تعلق نہیں بعض بڑی بڑی لمبی اور تفصیلی سکیمیں ارسال کی ہیں۔یہ بھی ایک مرض ہے کہ جب بھی کوئی نئی بات پیش ہوتی ہے بعض ایسے لوگ جن کا کوئی واسطہ اُس سے نہیں ہوتا لمبی لمبی تفاصیل اس کے متعلق لکھ کر بھیج دیتے ہیں اور بڑی تجاویز