انوارالعلوم (جلد 17) — Page 432
انوار العلوم جلد ۱۷ لدها بعض اہم اور ضروری امور (۱۹۴۴ء) بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ بعض اہم اور ضروری امور ( تقریر فرموده ۲۷ دسمبر ۱۹۴۴ء بر موقع جلسه سالانه بمقام قادیان ) تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا : - سب سے پہلے میں اُن دو نقصانات بے شک ہمیں بہت بڑا صدمہ پہنچا ہے کا ذکر کرنا چاہتا ہوں جو اس کا سال مگر ہم اپنے خدا کی رضا پر راضی ہیں سلسلہ احمدیہ کو پہنچے ہیں اور خصوصیت کے میری ذات کو سنجے کے ساتھ میری ذات کو پہنچے ہیں ۔ کو ہیں۔ اور اس کے فضلوں پر یقین رکھتے ہیں یعنی ایک اہم طاہر مرحومہ کی وفات اور ایک میر محمد الحق صاحب کی وفات ۔ جہاں تک آپس کی نسبت کا سوال ہے نہ صرف دونوں میرے عزیز تھے اور اس طرح آپس میں بھی عزیز تھے بلکہ ان دونوں میں ایک صفت مشترک بھی پائی جاتی تھی اور وہ یہ کہ دونوں غرباء کا بہت خیال رکھتے تھے ۔ میر صاحب جب فوت ہوئے تو ان کو دفن کرنے کے بعد جب میں واپس آ رہا تھا تو میں نے سنا کہ ایک شخص کہہ رہا تھا کہ ابھی چند روز ہوئے عورتیں یتیم ہوگئی تھیں اور آج ہم مرد بھی یتیم ہو گئے ۔ یہ ایک جذباتی بات ہے ورنہ حقیقت یہ ہے کہ خدائی جماعتیں کبھی یتیم نہیں ہوتیں ۔ مومن کا خدا ایسا ہے کہ اس پر کسی انسان کے پیدا ہونے یا مرنے سے کوئی اثر نہیں ہوتا ۔ دنیا آتی بھی ہے اور جاتی بھی ہے، لوگ پیدا بھی ہوتے ہیں اور مرتے بھی ہیں مگر خدا تعالیٰ کی بادشاہت چلتی ہی چلی جاتی ہے اور جو لوگ خود اپنے لئے خدا تعالیٰ کی ذات کو مار نہیں لیتے ان کا