انوارالعلوم (جلد 17) — Page 14
انوار العلوم جلد ۷ ۱۴ مستورات سے خطاب (۱۹۴۳ ء ) انہوں نے الم ذلك الكتب ا د یو پڑھ کر سنانا شروع کر دیا۔حضرت عمرؓ نے کہا آپ اچھے شاعر ہیں ! انہوں نے کہا اے خلیفۃ الرسول! کیا قرآن کے ہوتے ہوئے کسی شعر کی ضرورت باقی رہ جاتی ہے ؟ اس کے مقابلے میں تو دنیا کی ساری شاعری ختم ہوگئی۔عرب کا ایک دہر یہ شاعر تھا بادشاہ بھی دہر یہ تھا۔اُس نے کہا کہ تمہاری ہمیشہ مسلمانوں سے بحث ہوتی رہتی ہے تم کیوں کوئی ایسی آیت نہیں لکھ دیتے جو مسلمانوں کے قرآن کے مقابلہ میں پیش کر دیں۔شاعر نے کہا ہم لوگ کھانے پینے کے محتاج ہیں لوگوں کی تعریف کرتے ہیں اگر آپ کھانے پینے کا سامان کر دیں تو پھر لکھوں۔بادشاہ نے کہا کیا چاہئے ؟ اُس نے کہا ایک باغ ہو ، لونڈیاں ہوں ، ہر قسم کا سامان موجود ہو اور چھ مہینے کی مہلت دی جائے۔چھ مہینے بادشاہ اس خوشی میں بیٹھا رہا کہ اب مسلمانوں کے مقابلہ کی سورۃ تیار ہو جائے گی۔جب چھ مہینے گزر گئے۔پوچھا تیار ہو گئی ؟ کہنے لگا نہیں۔بادشاہ کو سخت غصہ آیا کہ لاکھوں روپیہ اس نے کھالیا پھر کہتا ہے کہ نہیں تیار ہوئی۔وہ کہنے لگا اے بادشاہ ! میں نے اپنی کوشش میں کمی نہیں کی۔اس بات کا ثبوت آپ اندر جا کر دیکھ سکتے ہیں۔بادشاہ نے دیکھا کہ کاغذوں کا ڈھیر لگا ہوا ہے۔وہ کہنے لگا قرآن کی مثال جب میں لکھنے لگتا تھا تو میری قلم رُک جاتی تھی۔مجھے تو ہر قدم پر شرمندگی اور ذلت اٹھانی پڑی ہے۔تو قرآن اتنی اعلیٰ درجہ کی کتاب ہے کہ تمام انسانی ضرورتوں کا علاج اور ہر قسم کی ہدایات اس میں موجود ہیں۔غرض اللہ تعالیٰ نے قرآن ایسی نعمت بنائی ہے کہ اس میں تمام انسانی ضرورتوں کا بیان ہے۔انا اعطيك الكوثر ہم نے تجھے ہر چیز کی کثرت دی ہے۔ہم بچے تھے تو ایک قصہ پڑھا کرتے تھے کہ عمر عیار کے پاس ایک زنبیل تھی جس میں سب کچھ نکل آتا تھا۔کھانا ہوتا تو اس میں سے اعلیٰ قسم کے کھانے نکل آتے۔مقابلہ کے لئے لشکر ، ہاتھی ، گھوڑے سب کچھ نکل آتا۔وہ تو ایک کہانی تھی مگر اس میں کوئی محبہ نہیں کہ قرآن کریم ایسی زنبیل رسول کریم ﷺ کو دی گئی کہ دنیا کی کوئی حاجت ، کوئی سوال عقلی اور نفلی ایسا نہیں جس کا کامل جواب اس میں موجود نہ ہو۔اچھی باتوں کی تعریف ، بُری باتوں کا رڈ ، عورت اور مرد کے تعلقات صلح اور جنگ کے