انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 397 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 397

انوار العلوم جلد ۱۷ ۳۹۷ تمام جماعتوں میں انصار اللہ کی تنظیم ضروری ہے قومی زندگی حاصل نہیں ہو سکتی اور ہمسایہ کی اصلاح میں ہی انسان کی اپنی اصلاح بھی ہوتی ہے۔خدا تعالیٰ نے انسان کو ایسا بنایا ہے کہ اس کے ہمسایہ کا اثر اس پر پڑتا ہے۔نہ صرف انسان بلکہ دنیا کی ہر ایک چیز اپنے پاس کی چیز سے متاثر ہوتی ہے اور ہم دیکھتے ہیں کہ پاس پاس کی چیزیں ایک دوسرے کے اثر کو قبول کرتی ہیں بلکہ سائنس کی موجودہ تحقیق سے تو یہاں تک پتہ چلتا ہے کہ جانوروں اور پرندوں وغیرہ کے رنگ اُن پاس پاس کی چیزوں کی وجہ سے ہوتے ہیں جہاں وہ رہتے ہیں۔مچھلیاں پانی میں رہتی ہیں اس لئے اُن کا رنگ پانی کی وجہ سے اور سورج کی شعاعوں کی وجہ سے جو پانی پر پڑتی ہیں سفید اور چمکیلا ہو گیا ، مینڈک کناروں پر رہتے ہیں اس لئے اُن کا رنگ کناروں کی سبز سبز گھاس کی وجہ سے سبزی مائل ہو گیا، ریتلے علاقوں میں رہنے والے جانور مٹیالا رنگ کے ہوتے ہیں، سبز سبز درختوں پر بسیرا ر کھنے والے طوطے سبز رنگ کے ہو گئے ، جنگلوں اور سُوکھی ہوئی جھاڑیوں میں رہنے والے تیتروں وغیرہ کا رنگ سُوکھی ہوئی جھاڑیوں کی طرح ہو گیا غرض پاس پاس کی چیزوں کی وجہ سے اور ان کے اثرات قبول کرنے کی وجہ سے پرندوں کے رنگ بھی اُسی قسم کے ہو جاتے ہیں۔پس اگر جانوروں اور پرندوں کے رنگ پاس پاس کی چیزوں کی وجہ سے بدل جاتے ہیں حالانکہ اُن میں دماغی قابلیت نہیں ہوتی تو انسانوں کے رنگ جن میں دماغی قابلیت بھی ہوتی ہے پاس کے لوگوں کی وجہ سے کیوں نہیں بدل سکتے۔خدا تعالیٰ نے اسی لئے قرآن مجید میں فرمایا ہے کہ کُونُوا مَعَ الصَّدِقِین کے یعنی اگر تم اپنے اندر تقویٰ کا رنگ پیدا کرنا چاہتے ہو تو اس کا گر یہی ہے کہ صادقوں کی مجلس اختیار کرو تا کہ تمہارے اندر بھی تقویٰ کا وہی رنگ تمہارے نیک ہمسایہ کے اثر کے ماتحت پیدا ہو جائے جو اُس میں پایا جاتا ہے۔پس جماعت کی تنظیم اور جماعت کے اندر دینی روح کے قیام اور اس روح کو زندہ رکھنے کیلئے یہ ضروری ہے کہ ہر شخص اپنے ہمسایہ کی اصلاح کی کوشش کرے کیونکہ ہمسایہ کی اصلاح میں ہی اُس کی اپنی اصلاح ہے۔ہر شخص جو اپنے آپ کو اس سے مستغنی سمجھتا ہے وہ اپنی روحانی ترقی کے راستہ میں خود روک بنتا ہے۔بڑے سے بڑا انسان بھی مزید روحانی ترقی کا محتاج ہوتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم آخر دم تک اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کی دعا کرتے