انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 386 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 386

انوار العلوم جلد ۷ ۳۸۶ خدام الاحمدیہ کیلئے تین اہم باتیں تک اس قسم کی شکایتیں آتی رہتی ہیں کہ نوجوان جب کہیں باہر سفر پر جاتے ہیں تو اُن میں سے بعض ریلوں کے ٹکٹ نہیں لیتے ، بعض غلط ڈبوں میں بیٹھ جاتے ہیں یا دوسروں سے دوستی پیدا کر کے سنیما دیکھنے چلے جاتے ہیں یا آپس میں کسی بات پر اختلاف ہو جائے تو جلدی غصہ میں آجاتے ہیں یا جلدی لڑائی شروع کر دیتے ہیں یا اگر انہیں قاضی کے سامنے کسی معاملہ میں بیان دینا پڑے اور وہ بیان اُن کے کسی دوست کے خلاف پڑتا ہو یا اُن کے ماں باپ اور رشتہ داروں کے خلاف پڑتا ہو تو وہ غلط بیانی سے کام لیتے ہیں۔یا اگر انہیں کسی ذمہ داری کے کام پر مقرر کیا جائے تو پوری طرح اپنی ذمہ داری کو ادا نہیں کرتے یا اگر روپیہ اُن کے ہاتھ میں دیا جائے تو وہ دیانت دار ثابت نہیں ہوتے۔چنانچہ اِس قسم کی شکایات میرے پاس کثرت کے ساتھ پہنچتی رہتی ہیں اور میں نہیں سمجھتا کہ خدام الاحمدیہ کے قیام کی وجہ سے ان شکایتوں میں کوئی کمی آئی ہو حالانکہ اصل کام یہی ہے کہ خدام الاحمدیہ کے عہدہ دار نو جوانوں کے اخلاق کی نگرانی رکھیں اور اُن کو اسلامی رنگ میں رنگین کرنے کی کوشش کریں۔میرا یہ مطلب نہیں کہ وہ تعلیمی حصہ کی طرف توجہ نہ کریں یا اس میں سستی اور غفلت سے کام لیں میرا مطلب یہ ہے کہ تعلیمی حصہ بعض اور ذرائع سے بھی جماعت کے سامنے بار بار آتا رہتا ہے مگر عملی نگرانی کا کام سست ہے۔یعنی ہم نے جو کچھ کہنا ہے اُسے کس طرح کہنا چاہئے اور جو کچھ کرنا ہے وہ کس طرح کرنا چاہئے یہ کام ہے جو خدام الاحمدیہ کا ہے۔پس اُس کے ہر فرد کو یہ معلوم ہونا چاہئے کہ وہ کون سے اخلاق ہمیں اپنے اندر پیدا کرنے چاہئیں جن کے بعد ہم اپنی تعلیم دنیا تک صحیح رنگ میں پہنچا سکتے ہیں۔اگر ہمارے اندر سچائی نہیں ، اگر ہمارے اندر دیانت نہیں، اگر ہمارے اندر محنت کی عادت نہیں ، اگر ہمارے اندر عقل نہیں ، اگر ہمارے اندر عزم نہیں ، اگر ہمارے اندر قربانی اور اختیار کا مادہ نہیں تو ہم اپنے پیغام کو خواہ کتنے ہی شاندار الفاظ میں دنیا کے سامنے پیش کریں اور خواہ کس قدر اُس کی تشریح اور تفصیل بیان کریں ہرگز ہرگز اور ہرگز ہم دنیا پر غالب نہیں آ سکتے اور ہماری ناکامی اور نامرادی اور شکست میں کوئی شبہ نہیں ہوسکتا۔پس ضروری ہے کہ اس پہلو کو نمایاں کیا جائے اور نوجوانوں کے اخلاق کی نگرانی رکھی جائے۔جہاں وہ لوگ جو بڑی عمر کے ہیں اُن کے لئے ضروری ہے کہ وہ علمی پہلو کو نمایاں کریں وہاں خدام الاحمدیہ کے