انوارالعلوم (جلد 17) — Page 378
انوار العلوم جلد کا خدام الاحمدیہ کیلئے تین اہم باتیں پس ہمارے سامنے کوئی نہ کوئی مقصد ہونا چاہئے کیونکہ کسی مقصد کو اپنے سامنے رکھے بغیر انسان کو کامیابی حاصل نہیں ہو سکتی۔دنیا کا یہ مطالبہ ہے کہ ہم اُسے کوئی پیغام دیں اور گومغربی لوگ اس پیغام کا دائرہ نہایت محدود رکھتے ہیں لیکن بہر حال اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اگر ایک مختصر پیغام دنیا میں عظمت کی نگاہ سے دیکھا جا سکتا ہے تو تفصیلی پیغام یقیناً زیادہ عظمت اور قدر کی نگاہوں سے دیکھا جائے گا۔ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ ہم اپنے مقاصد کی اہمیت کو سمجھیں اور اُن کے مطابق دنیا میں تغیر پیدا کرنے کی کوشش کریں۔پس سب سے پہلی چیز جس کی ہمیں ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ ہمارے سامنے کوئی مقصد ہونا چاہئے جس کی بناء پر ہم کہہ سکیں کہ ہم نے لوگوں سے کچھ کہنا ہے۔دوسرے ہمیں معلوم ہونا چاہئے کہ ہم نے جو کچھ کہنا ہے وہ کس طرح کہنا ہے۔کس طرح کہنے میں بھی بہت بڑا فرق پیدا ہو جاتا ہے۔سکول کا کورس ایک ہوتا ہے، یونیورسٹی ایک ہوتی ہے مگر اس فرق کی وجہ سے کہ ایک شخص جانتا ہے اُس نے جو کچھ کہا ہے وہ کس طرح کہنا چاہئے اور دوسرا اس امر سے ناواقف ہوتا ہے۔ایک شخص تو ترقی کرتے کرتے محکمہ تعلیم کا ڈائریکٹر مقرر ہو جاتا ہے اور دوسرا اسی ڈگری کا شخص سکول کی مدرسی میں ہی اپنی ساری عمر گزار دیتا ہے۔اسی امتیاز کی وجہ سے دنیا میں قابلیت کے الگ الگ مدارج تجویز کر دیئے گئے ہیں۔کسی درجہ کی قابلیت کا نام لوگوں نے پرائمری رکھا ہوا ہے، کسی درجہ کی قابلیت کا نام لوگوں نے مڈل رکھا ہوا ہے اور کسی درجہ کی قابلیت کا نام لوگوں نے انٹرنس رکھا ہوا ہے اور کسی درجہ کی قابلیت کا نام لوگوں نے ایف اے اور بی اے رکھا ہوا ہے تو کس طرح کہنے کا فرق بھی زمین و آسمان کا تغیر پیدا کر دیا کرتا ہے۔پرائمری کے بعض طالب علم ایسے ہوتے ہیں جو آئندہ مڈل میں تعلیم پانے والوں کے لئے نمونہ بننے والے ہوتے ہیں اور کچھ ایسے ہوتے ہیں جو ادنیٰ سے ادنی سکول کیلئے بھی ذلت کا موجب ہوتے ہیں۔کچھ پرائمری کے ماسٹر اس بات کے مستحق ہوتے ہیں کہ اُن کو ترقی دے کر مڈل کی تعلیم اُن کے سپرد کی جائے اور بعض ماسٹر کچھ کہنے سے اس طرح نا واقف ہوتے ہیں کہ اُن کا پرائمری میں رکھا جانا بھی انسپکٹروں کی نا واقعی یا جنبہ داری اور لحاظ کی بناء پر ہوتا ہے ذاتی قابلیت کا اُس میں دخل نہیں ہوتا۔تو کہنے کے طریق سے بھی انسان کی عملی زندگی میں بہت بڑا فرق پیدا ہو جاتا ہے۔وہ کتابیں مقرر ہوتی