انوارالعلوم (جلد 17) — Page 374
انوار العلوم جلد ۱۷ بِسْمِ اللهِ ا اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ۳۷۴ خدام الاحمدیہ کیلئے تین اہم باتیں نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ خدام الاحمدیہ کیلئے تین اہم باتیں ( تقریر فرموده ۱۵ ۱۷ کتوبر ۱۹۴۴ء بر موقع چھٹا سالانہ اجتماع خدام الاحمدیہ ) تشهد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:- مجھے مسوڑھوں کی سوزش اور دانتوں کے درد کی وجہ سے بولنا تو نہیں چاہئے لیکن چونکہ میں گزشتہ سال بھی خدام الاحمدیہ کے جلسہ میں تقریر نہیں کر سکا اس لئے باوجود تکلیف کے میں نے یہی فیصلہ کیا کہ مجھے کچھ نہ کچھ اِس موقع پر ضرور آپ لوگوں کے سامنے بیان کرنا چاہئے۔جب میں گھر سے چلنے لگا تو قدرتی طور پر میرے دل میں خیال پیدا ہوا کہ میں آج کس مضمون پر تقریر کروں؟ اس خیال کے پیدا ہوتے ہی دو مضمون میرے ذہن میں آئے جن میں سے ایک مضمون فوراً ہی اپنی ارتقائی منازل کو طے کرتے ہوئے ایسی صورت اختیار کر گیا کہ میں نے سمجھا نہ یہ موقع اس مضمون کے مناسب حال ہے اور نہ وقت اتنا ہے کہ میں اس مضمون کے متعلق اپنے خیالات پوری طرح ظاہر کر سکوں۔وہ مضمون اپنی ذات میں ایک کتابی صورت کی تمہید بننے کے قابل ہے تھوڑے سے وقت میں اُس کے متعلق اپنے خیالات کا اظہار نہیں کیا جا سکتا تب میں نے دوسرا مضمون لے لیا۔در حقیقت میرا منشاء یہ تھا کہ یہ دوسرا مضمون اُس تمہید کی تفصیل ہو لیکن وہ تمہید ایسا رنگ اختیار کر گئی کہ میرے نزدیک وہ زیادہ اہم کتاب کی تمہید بننے کے قابل ہے اس لئے میں نے دوسرے حصہ کو جسے میں اُس تمہید کی تفصیل کے طور پر بیان کرنا چاہتا تھا منتخب کر لیا اور میں نے سمجھا کہ اس مضمون کو میں چھوٹا بھی کر سکتا ہوں اور بچوں کے لحاظ سے اس کا بیان کرنا زیادہ مناسب بھی ہے۔