انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 369 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 369

انوار العلوم جلد ۱۷ ۳۶۹ میری مریم کہ یہ تیرے نیک بندے مجھ سے زیادہ مخلص اور خادم رہنما کے مستحق ہیں۔میں اور کن لفظوں سے ان کی سفارش تیرے پاس کر سکتا ہوں۔جماعت کی طرف سے اظہا را خلاص مریم بیگم کی وفات پر جس اخلاص کا اظہار جماعت نے کیا وہ ایمان کو نہایت ہی بڑھانے والا تھا۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی برکت ہی ہے جس نے جماعت میں ایسا اخلاص پیدا کر دیا ہے۔اللہ تعالیٰ ان کے اخلاص کو قبول کرے، ان کی غلطیوں کو دُور کرے اور نیکیوں کو بڑھائے اور ان کی آئندہ نسلوں کی اپنے ہاتھوں سے تربیت فرمائے۔اللَّهُمَّ آمِينَ اے میرے رب ! میں اب اپنے مضمون کو ختم کرتا ہوں اور بخاری میں مذکور مشہور واقعہ کو تجھے یاد دلاتے ہوئے تجھ سے کہتا ہوں کہ اگر مریم بیگم کی وفات کے وقت با وجود دل سے خون ٹپکنے کے میں نے اس کے آخری لمحوں کو صرف تیری ہی محبت کے لئے وقف رکھنے کے لئے کوشش کی تھی اور اپنے جذبات کو اس لئے قربان کر دیا تھا کہ تیرے ایک بندہ کی روح تیری ہی محبت سے چمٹ کر تیرے پاس پہنچے تو اے میرے پیارے! اگر میرا وہ فعل تیرے لئے اور تیرے نام کی بڑائی کے لئے تھا تو تو اُس کے بدلہ میں میرے دل سے مریم کی تکلیف دہ یا د کو نکال دے۔اے میرے رب ! جب مریم بیگم نے امتہ الحی مرحومہ کے بچوں کو پالنے کا وعدہ کیا اور میں نے اس سے وعدہ کیا کہ میں اس سے بہت محبت کروں گا تو اُس وقت میں نے تجھ سے دعا کی تھی کہ تو اس کی محبت میرے دل میں ڈال دے اور تو نے میری دعائنی اور باوجود ہزاروں بدمزگیوں کے اس کی محبت میرے دل سے نہیں نکلی۔آج میں تجھ سے پھر عرض کرتا ہوں کہ اس کی محبت تو میرے میں رہے کہ میں اس کیلئے دعا کرتا رہوں مگر اس کی تکلیف دہ یا د میرے دل سے جاتی رہے۔تا میں تیرے دین کی خدمت اچھی طرح اور آخری وقت تک ادا کرتا رہوں۔اے میرے رب ! میں یقین رکھتا ہوں کہ اب کہ مریم اگلے جہان میں ہیں اور حقائق اُن پر واضح ہو چکے ہیں اگر تو اُن پر یہ امر منکشف فرمائے تو وہ بھی اس امر کو بُر انہیں منائے گی بلکہ خود بھی تجھ سے یہی عرض کرے گی کہ میرے خاوند نے میری روح کو با برکت بنانے کیلئے مجھ سے میری