انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 366 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 366

انوار العلوم جلد ۱۷ ۳۶۶ میری مریم ہیں ) اتی اللہ میاں کے گھر گئی ہیں وہاں اُن کو زیادہ آرام ملے گا اور اللہ میاں کی یہی مرضی تھی کہ اب وہ وہاں چلی جائیں۔دیکھو ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے ، تمہارے دادا جان فوت ہو گئے کیا تمہاری اُمّی اُن سے بڑھ کر تھیں۔میرے خدا کا سایہ اس بچی سے ایک منٹ کے لئے بھی جدا نہ ہو، میرے اس فقرہ کے بعد اُس نے ماں کے لئے آج تک کوئی چیخ نہیں ماری اور یہ فقرہ سنتے ہی بالکل خاموش ہوگئی بلکہ دوسرے دن جنازہ کے وقت جب اُس کی بڑی بہن جو کچھ بیمار ہے ، صدمہ سے شیخ مار کر بے ہوش ہو گئی تو میری چھوٹی بیوی مریم صدیقہ کے پاس جا کر میری جھی اُن سے کہنے لگی چھوٹی آپا ! انہیں بچے چھوٹی آپا کہتے ہیں ) باجی کتنی پاگل ہے۔ابا جان کہتے ہیں امی کے مرنے میں اللہ کی مرضی تھی ؟ یہ پھر بھی روتی ہے۔اے میرے رب ! اے میرے رب ! جس کی چھوٹی بچی نے تیری رضاء کے لئے اپنی ماں کی موت پر غم نہ کیا ، کیا تو اُسے اگلے جہان میں ہر غم سے محفوظ نہ رکھے گا۔اے میرے رحیم خدا ! تجھ سے ایسی امید رکھنا تیرے بندوں کا حق ہے اور اِس امید کا پورا کرنا تیرے شایانِ شان ہے۔ایک دوسرے کو سمجھنے کی حسرت میری مریم جیسا کہ میں پہلے لکھ آیا ہوں اپنی بیماری کی وجہ سے اس وہم میں اکثر مبتلا رہتیں کہ میں اُن سے محبت نہیں کرتا یا یہ کہ دوسروں سے کم کرتا ہوں اور اس وجہ سے دوسرے لوگوں سے تو اچھی رہتیں مگر مجھ سے بہت دفعہ جھگڑ پڑتیں اور ہماری زندگی محبت اور تنازع کا ایک معجون ساتھی۔میں ان سے بے حد محبت کرتا تھا اور تکلیف کے وقت ان کی شکل دیکھ لینا میری کوفت کو کم کر دیتا تھا۔مگر وہ اس وہم میں رہتیں کہ مجھ سے محبت کم کی جاتی ہے۔لیکن آخری بیماری میں جو دوعورتیں باری باری ان کی صحبت میں رہیں ، اُنہوں نے مجھے الگ الگ سنایا ہے کہ انہوں نے اپنی غلطی کا اعتراف کیا۔پہلی نے سنایا کہ انہوں نے اس امر کا اظہار کیا کہ میرا خیال تھا کہ حضرت صاحب کو مجھ سے محبت نہیں مگر یہ غلط ہے۔میری بیماری میں جو انہوں نے خدمت کی ہے اس سے مجھے معلوم ہو گیا ہے کہ ان کو مجھ سے بہت محبت ہے۔اگر میں زندہ رہی تو میں ان کے پاؤں دھو دھو کر پیوں گی اور دوسری نے سنایا کہ مجھ سے انہوں نے کہا کہ اب مجھے تسلی ہو گئی ہے کہ مجھ سے ان کو بہت محبت ہے۔اگر میں زندہ رہی تو میں اپنی عمر ان کی خدمت میں خرچ کر