انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 362 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 362

انوار العلوم جلد کا ۳۶۲ میری مریم درخواست کرنی شروع کی کہ اے میرے رب ! تیرے پاس صحت بھی ہے پس تجھ سے میری پہلی درخواست تو یہ ہے کہ تو مریم بیگم کو صحت دے لیکن اگر کسی وجہ سے تو سمجھتا ہے کہ اب مریم بیگم کا اس دنیا میں رہنا اس کے اور میرے دین و دنیا کیلئے بہتر نہیں تو اے میرے رب ! پھر اسے اس تکلیف سے بچالے جو اس کے دین کو صدمہ پہنچائے۔اس دعا کے بعد جو ان کی وفات سے کوئی آٹھ نو دن پہلے کی گئی تھی میں نے دیکھا ان کی درد کی تکلیف کم ہونی شروع ہو گئی مگر ان کے ضعف اور دل کے دوروں کی تکلیف بڑھنے لگی۔ظاہری سبب یہ بھی پیدا ہوا کہ ڈاکٹر بڑو چہ نے جن کے علاج کے لئے اب ہم انہیں سرگنگا رام ہسپتال میں لے آئے تھے انہیں افیون بھی دینی شروع کر دی تھی۔آخری لمحات بہر حال اب انجام قریب آ رہا تھا مگر اللہ تعالیٰ پر امید قائم تھی ، میری بھی اور ان کی بھی۔وفات سے پہلے دن ان کی حالت نازک دیکھ کر اقبال بیگم ( جو ان کی خدمت کیلئے ہسپتال میں اڑھائی ماہ رہیں اللہ تعالیٰ انہیں دونوں جہان میں بڑے مدارج عطا فرمائے ) رونے لگیں۔اُن کا بیان ہے کہ مجھے روتے ہوئے دیکھ کر مریم محبت سے بولیں پگلی روتی کیوں ہو، اللہ تعالیٰ میں سب طاقت ہے۔دعا کرو، وہ مجھے شفا دے سکتا ہے۔۴ / مارچ کی رات کو میر محمد اسماعیل صاحب اور ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب نے مجھے بتایا کہ اب دل کی حالت بہت نازک ہو چکی ہے اب وہ دوائی کا اثر ذرا بھی قبول نہیں کرتا اس لئے میں دیر تک وہاں رہا۔پھر جب انہیں کچھ سکون ہوا تو شیخ بشیر احمد صاحب کے گھر پر سونے کیلئے چلا گیا۔کوئی چار بجے آدمی دوڑا ہوا آیا کہ جلد چلیں حالت نازک ہے۔اُس وقت میرے دل میں یہ یقین ، پیدا ہو و گیا کہ اب میری پیاری مجھ سے رُخصت ہونے کو ہے اور میں نے خدا تعالیٰ سے اپنے اور اس کے ایمان کے لئے دعا کرنی شروع کر دی۔اب دل کی حرکت کمزور سے کمزور تر ہوتی جا رہی تھی اور میرے دل کی ٹھنڈک دار الآخرة کی طرف اُڑنے کے لئے پر تول رہی تھی۔کوئی پانچ بجے کے قریب میں پھر ایک دفعہ جب پاس کے کمرہ سے جہاں آخری بات میں معالجین کے پاس بیٹھا ہوا تھا ان کے پاس گیا تو ٹھنڈے پسینے آ رہے تھے اور شدید ضعف کے آثار ظاہر ہو رہے تھے مگر ابھی بول سکتی تھیں۔کوئی بات انہوں نے کی