انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 361 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 361

انوار العلوم جلد ۷ میری مریم غلام مصطفیٰ جنہوں نے اُن کی بیماری میں بہت خدمت کی۔جَزَاهُمُ اللَّهُ اَحْسَنَ الْجَزَاءِ - انہوں نے متواتر تاروں اور فون سے تسلی دلائی اور کہا کہ مجھے جلدی کرنے کی ضرورت نہیں لیکن اچا نک جمعرات کی رات کو شیخ بشیر احمد صاحب کا فون ملا کہ برادرم سید حبیب اللہ شاہ صاحب کہتے ہیں کہ ہمشیرہ مریم کی حالت خراب ہے ، آپ کو فوراً آنا چاہئے۔جس پر میں جمعہ کو واپس لا ہور گیا اور ان کو سخت کمزور پایا۔یہ کمزوری ایسی تھی کہ اس کے بعد تندرستی کی حالت ان پر پھر نہیں آئی۔بیماری پر خرچ دو ر میں ان پر رات اور دن کے پہرہ کے لئے رکھی جاتی تھیں اور چونکہ ان کا خرچ پچاس ساٹھ روپیہ روزانہ ہوتا تھا مجھے معلوم ہوا کہ اِس کا اِن کے دل پر بہت بوجھ ہے اور وہ بعض سہیلیوں سے کہتیں کہ میری وجہ سے ان پر اس قدر بوجھ پڑا ہوا ہے۔مجھے کسی طرح یہ بات معلوم ہوئی تو میں نے ان کو تسلی دلائی کہ مریم ! اس کی بالکل فکر نہ کرو میں یہ خرچ تمہارے آرام کے لئے کر رہا ہوں تم کو تکلیف دینے کیلئے نہیں اور ان کی بعض سہیلیوں سے بھی کہا کہ ان کو سمجھاؤ کہ یہ خرچ میرے لئے عین خوشی کا موجب ہے اور میرا خدا جانتا ہے کہ ایسا ہی تھا۔یہاں تک کہ ان کی بیماری کے لمبا ہونے پر میرے دل میں خیال آیا کہ خرچ بہت ہو رہا ہے، روپیہ کا انتظام کس طرح ہوگا ؟ تو دل میں بغیر ادنی انقباض محسوس کئے میں نے فیصلہ کر لیا کہ میں کوٹھی دارالحمد اور اُس کا ملحقہ باغ فروخت کر دوں گا۔میں نے دل میں کہا کہ اس کی موجودہ قیمت تو بہت زیادہ ہے لیکن ضرورت کے وقت اگر اسے اونے پونے بھی فروخت کیا جائے تو پچھتر ہزار کو وہ ضرور فروخت ہو جائے گی اور اس طرح اگر ایک سال بھی مریم کیلئے یہ خرچ کرنا پڑا تو چھ ہزار روپیہ ماہوار کے حساب سے ایک سال تک ان کے خرچ کی طرف سے بے فکری ہو جائے گی اور یہی نہیں میرا نفس مریم بیگم کے لئے اپنی جائداد کا ہر حصہ فروخت کرنے کیلئے تیار تھا تا کسی طرح وہ زندہ رہیں خواہ بیماری ہی کی حالت میں۔مگر کچھ دنوں کے بعد میں نے محسوس کیا بیماری کی تکلیف سے بچانے کیلئے دعا کہ وہ بیماری سے سخت اذیت محسوس کر رہی ہیں جو زخم کے درد کی وجہ سے نا قابل برداشت ہے۔تب میں نے اپنے رب سے