انوارالعلوم (جلد 17) — Page 360
انوار العلوم جلد ۱۷ ۳۶۰ میری مریم متعلق مجھے لاہور کے قیام میں بڑے بڑے ڈاکٹروں سے معلوم ہوا کہ مرحومہ کے مخصوص حالات میں وہ ٹیکہ واقعہ میں مضر تھا ۔ اُس ٹیکہ کا یہ اثر ہوا کہ ان کا پیٹ یکدم پھول گیا اور اتنا پھولا کہ موٹے سے موٹے آدمی کا اتنا پیٹ نہیں ہوتا ۔ میں بیماری میں لنگڑاتا ہوا وہاں پہنچا اور ان کی حالت زیادہ خطرناک پاکر لاہور سے کرنل ہیز کو اور امرت سر سے لیڈی ڈاکٹر وائن کو بُلوایا۔ دوسرے دن یہ لوگ پہنچے اور مشورہ ہوا کہ انہیں لاہور پہنچایا جائے جہاں سترہ دسمبر ۱۹۴۳ء کو موٹر کے ذریعہ سے انہیں پہنچایا گیا۔ کرنل کی رائے تھی کہ کچھ علاج کر کے کوشش کروں گا کہ دواؤں سے ہی فائدہ ہو جائے چنانچہ ۱۷ دسمبر سے ۹،۸ جنوری تک وہ اس کی کوشش کرتے رہے۔ آپریشن مگر آخر یہ فیصلہ کیا کہ آپریشن کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا۔ ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب کی رائے اس کے خلاف تھی مگر مجھے اس کے سوا کوئی چارہ نظر نہ آتا تھا۔ اس لئے میں نے مرحومہ سے ہی پوچھا کہ یہ حالات ہیں ، تمہارا جو منشاء ہو اُس پر عمل کیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ آپریشن کروا ہی لیں ۔ گو مجھے اس طرح محفوظ الفاظ میں مشورہ دیا مگر اُن کے ساتھ رہنے والی خاتون نے بعد میں مجھ سے ذکر کیا کہ وہ مجھ سے کہتی رہتی تھیں کہ دعا کرو کہیں وقت پر حضرت صاحب کا دل آپریشن سے ڈر نہ جائے ۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنے نزد یک آپریشن کو ضروری سمجھتی تھیں ۔ بہر حال ۱۴ جنوری کو ان کا آپریشن ہوا۔ اُس وقت ان کی طاقت کا پورا خیال نہ رکھا گیا اور ۱۵ جنوری کو ان کے دل کی حالت خراب ہونی شروع ہوگئی ۔ اُس وقت ڈاکٹروں نے توجہ کی اور انسانی خون بھی جسم میں پہنچایا گیا اور حالت اچھی ہو گئی اور اچھی ہوتی گئی ۔ افاقہ کے بعد تشویشناک حالت یہاں تک کہ ۲۵ تاریخ کو مجھے کہا گیا کہ اب چند دن تک ان کو ہسپتال سے رخصت کر دیا جائے گا اور میں اجازت لے کر چند دن کے لئے قادیان آ گیا۔ میرے قادیان جانے کے بعد ہی ان کی حالت خراب ہو گئی اور وہ زخم جسے مندمل بتایا جاتا تھا پھر دوبارہ پورا کا پورا کھول دیا گیا مگر مجھے اس سے غافل رکھا گیا اور اس وجہ سے میں متواتر ہفتہ بھر قادیان ٹھہرا رہا ۔ ڈاکٹر