انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 359 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 359

انوار العلوم جلد ۱۷ ۳۵۹ میری مریم میری بیماری کی وجہ سے زیادہ تکلیف کا اظہار نہ کیا۔چنبہ کا سفر جب مجھے ذرا اور افاقہ ہوا اور میں چنبہ گیا تو با وجود بیمار ہونے کے اصرار کے ساتھ وہاں گئیں اور گھوڑے کی سواری کی کیونکہ کچھ حصہ سفر میں ڈانڈی سکنہ ملی تھی میں نے سمجھایا کہ اس طرح جانا مناسب نہیں مگر حسب دستور یہی جواب دیا کہ آپ چاہتے ہیں کہ میں سیر نہ کروں میں ضرور جاؤں گی۔آخر ان کی بیماری کی وجہ سے میں نے دوسروں کو روکا اور اُن کو ساتھ لے گیا۔رمضان میں مشقت اس کے بعد رمضان آ گیا اور ہندوستانی عادت کے ماتحت قافلہ کے لوگوں نے غذا کے بارہ میں شکایات شروع کیں اور ملا زم آخر ملازم ہوتے ہیں، نتیجہ یہ ہوا کہ مرحومہ نے اس جان لیوا بیماری میں رات کو اُٹھ اُٹھ کر تین تین چار چار سیر کے پراٹھے سحری کے وقت پکا کر لوگوں کے لئے بھیجے جس سے بیماری کے مقابلہ کی طاقت جسم سے بالکل جاتی رہی۔میں تو کمزور تھا روزے نہ رکھتا تھا جب مجھے علم ہوا تو میں نے ان کو روکا مگر اِس کا جواب انہوں نے یہی دیا کہ کیا معلوم پھر ثواب کمانے کا موقع ملے یا نہ ملے اور اس عمل سے نہ رکیں۔ہم واپس آئے تو اُن کی صحت ابھی کمزور ہی تھی۔تین چار ہفتوں کے بعد ہی شدید دوره پھر شدید دورہ ہو گیا۔میں اُس وقت گردے کی درد سے بیمار پڑا ہوا تھا۔اُس وقت مجھے معلوم ہوا کہ دورہ ایسا سخت ہے کہ بچنے کی امید نہیں یہ پہلا موقع تھا کہ مریم کی موت میری آنکھوں کے سامنے آئی۔میں چل تو سکتا نہ تھا ، اس لئے جب میرا کمرہ خالی ہوا چار پائی پر اوندھے گر کر میں نے اپنے رب سے عاجزی اور انکساری کے ساتھ ان کیلئے دعائیں کیں اور خدا تعالیٰ نے فضل کیا اور اُس وقت موت ٹل گئی اور میں اچھا ہوکر وہاں جانے لگ گیا۔مرض الموت کا حملہ کچھ دنوں بعد پھر مجھے نقرس کا دورہ ہوا اور پھر وہاں جانا چھٹ گیا۔اُس وقت ڈاکٹروں کی غلطی سے ایک ایسا ٹیکہ لگایا گیا جس کے خلاف مریم بیگم نے بہت شور کیا کہ یہ ٹیکہ مجھے موافق نہیں آتا۔اس کے بعد اُس ٹیکہ کے