انوارالعلوم (جلد 17) — Page 358
انوار العلوم جلد کا ۳۵۸ میری مریم آج وہ ایک منظم جماعت ہے جس میں ترقی کرنے کی بے انتہاء قابلیت موجود ہے۔انہوں نے کئی کو ناراض بھی کیا مگر بہتوں کو خوش کیا ، بیواؤں کی خبر گیری، بیتامی کی پرورش، کمزوروں کی پرسش ، جلسہ کا انتظام ، باہر سے آنے والی مستورات کی مہمان نوازی اور خاطر مدارات ،غرض ہر بات میں انتظام کو آگے سے بہت ترقی دی اور جب یہ دیکھا جائے کہ اس انتظام کا اکثر حصہ گرم پانی سے بھری ہوئی ربڑ کی بوتلوں کے درمیان چار پائی پر لیٹے ہوئے کیا جاتا تھا تو احسان شناس انسان کا دل اس کمزور ہستی کی محبت اور قدر سے بھر جاتا ہے۔اے میرے رب ! تو اس پر رحم کر اور مجھ پر بھی۔۱۹۴۲ ء کی بیماری ۱۹۴۲ء میں میں سندھ میں تھا کہ مرحومہ سخت بیمار ہوئیں اور دل کی حالت خراب ہوگئی۔مجھے تا رگئی کہ دل کی حالت خراب ہے۔میں نے پوچھا کہ کیا میں آ جاؤں؟ تو جواب گیا کہ نہیں اب طبیعت سنبھل گئی ہے۔یہ دورہ مہینوں تک چلا اور کہیں جون جولائی میں جا کر کچھ افاقہ ہوا۔اُس سال انہی دنوں میں اُتم ناصر احمد کو بھی دل کے دورے ہوئے۔نہ معلوم اس کا کیا سبب تھا۔۱۹۴۳ء کے مئی میں میں ان کو دہلی لے گیا کہ ان کا علاج حکیموں سے کرواؤں۔حکیم محمود احمد خان صاحب کے صاحبزادے کو دکھایا اور علاج تجویز کروایا مگر مرحومہ علاج صرف اپنی مرضی کا کروا سکتی تھیں چنانچہ وہ علاج انہیں پسند نہ آیا اور انہوں نے پوری طرح کیا نہیں۔وہاں بھی چھوٹا سا ایک دورہ اندرونی تکلیف کا ہوا مگر جلدی آرام آ گیا۔اس بیماری میں بھی جاتے آتے آپ ریل میں فرش پر لٹیں اور میری دوسری بیویوں کے بچوں کوسیٹوں پر لٹوایا۔دہلی سے واپسی کے معاً بعد مجھے سخت دورہ کھانسی بخار کا ہوا جس میں مرحومہ نے حد سے زیادہ خدمت کی۔ان گرمی کے ایام میں رات اور دن میرے پاس رہتیں اور اکثر پاخانہ کا برتن خود اُٹھا تیں اور خود صاف کرتیں، کھانا بھی پکا تیں حتی کہ پاؤں کے تلوے ان کے گھس گئے۔جاگتا تو ساری ساری رات ساتھ جا گئیں۔سو جاتا اور کھانسی اُٹھتی تو سب سے پہلے وہ میرے پاس پہنچ چکی ہوتی تھیں۔جب کچھ افاقہ ہوا اور ہم ڈلہوزی آئے تو وہاں بھی باورچی خانہ کا انتظام پہلے انہوں نے لیا اور کوٹھی کو با قرینہ سجایا۔یہاں ان کو پھر شدید دورہ بیماری کا ہوا مگر