انوارالعلوم (جلد 17) — Page 333
انوار العلوم جلد ۱۷ ۳۳۳ غزوہ حنین کے موقع پر صحابہ کرام کا قابل تقلید نمونہ گیا کہ تم میں سے سب سے بڑا بہادر کون تھا ؟ تو اُنہوں نے کہا ہم میں سے سب سے بڑا بہادر وہ الله شخص سمجھا جاتا تھا جو جنگ میں رسول کریم ﷺ کے پاس کھڑا ہوتا اس لئے کہ دشمن اپنا سارا زور اس بات پر صرف کر دیا کرتا تھا کہ رسول کریم ﷺ کو شہید کرے ۔ پس آپ کے پاس کھڑا ل صلى ہونا کوئی آسان کام نہیں تھا۔ پھر انہوں نے کہا رسول کریم ﷺ کے پاس کھڑے ہونے کا سب سے زیادہ موقع ابوبکر کو ملتا تھا۔ تو صحابہ کرام کی گواہی ہے کہ رسول کریم ﷺ سب زیادہ خطرے میں ہوتے تھے ۔ اگر خدا تعالیٰ کا ہاتھ ان کو بچا لیتا تھا اور آپ اپنی طرف سے جان دینے صلى الله علی کے لئے تیار رہتے تھے تو کون کہہ سکتا ہے کہ محمد اللہ شہید نہ ہوئے محمد ﷺ تو ان سے ہزاروں وسام گنا زیادہ شہادت کا ثواب لے گئے کیونکہ ہر موقع پر انہوں نے اپنا نفس قربان کرنے کے لئے پیش کر دیا ۔ اگر انہیں ظاہری شہادت نصیب نہیں ہوئی تو اس میں آپ کا کوئی قصور نہیں یہ خدا کا فعل ہے۔ خدا نے یہی چاہا کہ اُس کا رسول زندہ رہے اور لوگوں کی تربیت کا کام کرتا رہے۔ پس جو پیچھے رہنے والے ہیں ان میں سے ہر سچا احمدی اپنے دل میں یہ درد رکھتا ہے کہ کاش ! اِس میدان میں اُسے آگے جانے کا موقع ملتا ۔ جب نعمت اللہ خاں صاحب کا بل میں شہید ہوئے تو میں اُن دنوں انگلستان میں تھا۔ مجھے جب ان کی شہادت کی خبر پہنچی تو اُس وقت بے اختیار میری زبان پر یہ شعر آ گیا کہ خدا شاہد ہے اُس کی راہ میں مرنے کی خواہش میں مرا ہر ذرہ تن جھک رہا ہے التجا ہو کر پس ہر مومن کا دل اُدھر ہی مشغول ہے جس طرف وہ جا رہا ہے اور ہر مومن کی دعائیں اُس کے ساتھ ہیں صرف اتنی بات ت ہے کہ خدا نے اس کو اس خدمت کے لئے دوسروں سے پہلے چنا۔ ہم یقینی طور پر نہیں کہہ سکتے کہ یہ انعام کے طور پر ہے ممکن ہے اللہ تعالیٰ کا یہ انتخاب بطور انعام نہ ہو بلکہ بطورا بتلا ہو اس لئے یہ بہت ہی خوف کا مقام ہے ۔ انہیں دعاؤں اور زاری سے کام لیتے اس لئے یہ بہت کا ہے۔ اور سے کام اور سے ہوئے آگے جانا چاہئے تا کہ وہ اپنی کسی غلطی اور قصور کی وجہ سے اس انعام کو عذاب میں نہ بدل لیں کیونکہ جہاں خدا کی طرف سے کام کے مواقع بہم پہنچائے جاتے ہیں وہاں کوئی موقع ایسا