انوارالعلوم (جلد 17) — Page 332
انوار العلوم جلد کا ۳۳۲ غزوہ حنین کے موقع پرصحابہ کرام کا قابل تقلید نمونہ ہے کہ جو موقع اُن لوگوں کو ملا جو اس میدان میں بڑھ چکے ہیں کاش! یہ موقع اُسے میسر آتا۔حضرت خالد بن ولیڈ کی وفات کا وقت جب قریب آیا تو وہ اپنی چار پائی پر لیٹے ہوئے رو رہے تھے۔اُن کا ایک دوست اُس وقت اُن کے پاس پہنچا اور کہنے لگا خالد ! یہ رونے کا کونسا موقع ہے۔آج تو تمہارے لئے خوش ہونے کا دن ہے کہ خدا سے انعامات لینے کا وقت آ گیا۔اُس نے سمجھا شاید خالد موت کے ڈر سے رور ہے ہیں۔حضرت خالد نے کہا تم میری بات کو نہیں سمجھے کہ میں کیوں رو رہا ہوں۔تم میرے سینہ پر سے کپڑا اُٹھاؤ۔اُس نے کپڑا اُٹھایا تو حضرت خالد نے کہا بتاؤ کیا میرے سینہ پر کوئی جگہ خالی ہے جہاں تلوار کے زخم نہ ہوں؟ اس نے کہا کوئی جگہ خالی نہیں۔حضرت خالد نے کہا اب میری پیٹھ پر سے کپڑا اُٹھاؤ۔اُس نے کپڑا اٹھایا تو انہوں نے پوچھا بتاؤ کیا میری پیٹھ پر کوئی جگہ ایسی ہے جو تلوار کے زخموں سے خالی ہو؟ اُس نے کہا کوئی جگہ خالی نہیں۔حضرت خالد نے کہا اب میرا پاجامہ اوپر اُٹھاؤ اور دیکھو کہ کیا میری ٹانگوں پر کوئی جگہ ایسی ہے جہاں تلوار کے زخم نہ ہوں؟ اُس نے ایک ایک کر کے دونوں ٹانگوں پر سے پاجامہ اُٹھایا اور کہا کوئی جگہ خالی نہیں ہر جگہ تلوار کے زخموں کے نشان لگے ہوئے ہیں۔یہ نشانات دکھا کر حضرت خالد کہنے لگے میں نے ہر موت کی جگہ میں جہاں مجھے شہادت نصیب ہو سکتی تھی اپنے آپ کو نڈر ہو کر ڈال دیا مگر مجھے شہادت نصیب نہ ہوئی۔اس کے مقابلہ میں میرے بہت سے بھائی ایک ایک جنگ میں شریک ہوئے اور شہادت کے مرتبہ پر فائز ہو گئے۔لیکن میں جس نے ہر خطرہ میں اپنے آپ کو ڈالا تھا آج رو رہا ہوں اور چار پائی پر مر رہا ہوں۔خالد اپنی محبت اور اخلاص کی وجہ سے اپنی چارپائی پر مرنے کو بُرا محسوس کر رہا تھا لیکن عارف کی آنکھ جانتی ہے اور خدا تعالیٰ کے مقرب بندے سمجھتے ہیں کہ جہاں دوسروں کو ایک ایک شہادت کا ثواب ملا وہاں خالد کو بیسیوں شہادتوں کا ثواب مل چکا۔صرف تلوار سے مرنا انسان کو انعام کا مستحق نہیں بناتا بلکہ شہادت کی خواہش شدید انسان کو شہید بنایا کرتی ہے ورنہ یہ سمجھا جائے گا کہ حمزہ تو شہید ہوئے لیکن محمد ﷺ شہید نہیں ہوئے مگر یہ بالکل غلط ہے۔اگر حمزہ ایک دفعہ شہید ہوئے تھے تو محمد عبد اللہ سینکڑوں بار شہید ہوئے۔خود صحابہ کہتے ہیں جب اُن سے پوچھا۔