انوارالعلوم (جلد 17) — Page 330
انوار العلوم جلد ۱۷ ۳۳۰ غزوہ حنین کے موقع پر صحابہ کرام کا قابل تقلید نمونہ اپنے جذبات عقیدت کا اظہار آپ کی خدمت میں کرتے ہیں۔يَا رَسُولَ اللَّهِ ! ہماری عزت و ناموس آپ کی عزت و ناموس پر قربان، ہماری عزتیں پہلے قربان ہوں گی، ہمارا ناموس پہلے کچلا جائے گا اور دشمن آپ کی عزت و ناموس تک اُس وقت تک نہیں پہنچ سکے گا جب تک وہ ہماری عزت و ناموس کو کچل کر نہیں گزرتا۔بے شک ان حملوں کے دفاع کے لئے تلوار ہمارے پاس نہیں مگر تلوار سے کب لوگوں کے دلوں کو تسکین ہو سکتی ہے۔مسلمانوں نے تلوار استعمال کی اور سپین کھو دیا۔آج ہم قرآن استعمال کریں گے اور پھر خدا کے فضل سے سپین کو واپس لیں گے۔مسلمانوں نے سپین اس طرح کھویا کہ جب اسلامی حکومت کا زمانہ ممتد ہو گیا اور عیسائیوں نے دیکھا کہ مسلمانوں کے خلاف کسی طرح عیسائی قوم میں جوش پیدا نہیں ہوتا تو انہوں نے مشورہ کر کے یہ تدبیر کی کہ بعض عیسائیوں کو جامع مسجد میں بھجوا دیتے اور جب خطیب تقریر کر رہا ہوتا تو وہ کھڑے ہو کر نا شائستہ الفاظ رسول کریم ﷺ کی ذات اور قرآن اور اسلام کے متعلق استعمال کرنا شروع کر دیتے۔جس پر جو شیلے مسلمان انہیں وہیں قتل کر دیتے اس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ جب یکے بعد دیگرے کئی عیسائی قتل ہونے شروع ہو گئے تو سارے عیسائیوں میں جوش پیدا ہو گیا۔وہ اکٹھے ہو گئے اور اُنہوں نے مسلمانوں کو سپین سے نکال دیا۔اگر مسلمان عیسائیوں کی اس تدبیر کے مقابلہ میں دانائی سے کام لیتے ، اگر وہ عیسائیوں کو قتل کرنے کی بجائے اپنے آپ پر ماتم کرتے کہ ہم نے آٹھ سو سال اس ملک پر حکومت کر کے بھی یہاں کے رہنے والوں کو مسلمان نہیں کیا ، ہم عمارتوں کی تکمیل میں تو لگے رہے ، ہم سر بفلک محلات تیار کرنے میں تو مشغول رہے، ہم اپنی عزتوں کے قائم کرنے میں تو مصروف رہے مگر ہم نے محمد ﷺ کی عزت قائم کرنے کی طرف کوئی توجہ نہ کی جس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج عیسائی ہمارے منہ پر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دے رہے ہیں اور پھر بجائے تلوار سے اُن لوگوں کو قتل کرنے کے اُن سے کہتے کہ بے شک تم نے سخت کلامی کی ہے مگر چونکہ ہمارے آقا کی یہی تعلیم ہے کہ ہم دشمن سے نرمی کا برتاؤ کریں اس لئے ہم تمہیں کچھ نہیں کہتے تو عیسائیوں کی ساری سکیم دھری کی دھری رہ جاتی اور اسلام کو سپین میں ایک نئی زندگی حاصل ہوتی مگر انہوں نے اپنی طاقت اور اپنی حکومت کے گھمنڈ میں یہ سمجھا کہ تلوار سے اُن کو