انوارالعلوم (جلد 17) — Page 326
انوار العلوم جلد ۱۷ ۳۲۶ غزوہ حنین کے موقع پر صحابہ کرام کا قابل تقلید نمونہ صلى الله ان حملوں کا جواب دینے والا کوئی نہیں، اس بل بوتے پر کہ وہ جتنی اشاعت اپنے لٹریچر کی کرنا چاہئیں کر سکتے ہیں اعتراضوں پر اعتراض بکھیر تے چلے جارہے ہیں۔پھر تعلیم بھی ان کے ہاتھ میں ہے، چنانچہ کالجوں میں لڑکے جب تعلیم حاصل کرنے کیلئے جاتے ہیں تو انہی کی لکھی ہوئی کتابیں پڑھتے ہیں۔ان کتابوں کے پڑھنے کے بعد جب وہ وہاں سے نکلتے ہیں تو رسول کریم علی کی محبت سے ان کے دل بالکل خالی ہوتے ہیں۔ایک تاجر جو لین دین کے لئے ، جو سو دا خرید نے یا سودا بیچنے کے لئے ان کی کوٹھیوں میں جاتا ہے جب وہ ان کی کوٹھیوں سے نکلتا ہے اُس کا دل رسول کریم ﷺ کی محبت سے خالی ہوتا ہے یہی حال قریباً سب ایشیائی اور افریقن لوگوں کا ہے۔کیونکہ اپنی روزی کمانے کے لئے یا نوکری حاصل کرنے کے لئے سب ان کے محتاج ہیں اور جب بھی کوئی شخص ان کی نوکری اختیار کرتا ہے اِلَّا مَا شَاءَ اللہ اپنے دین اور ایمان کو بیچ دیتا ہے۔اُس کا دل ایمان اور محبت رسول سے خالی ہو جاتا ہے۔ایک مسلمان کو ان کی نوکری کرتے ہوئے ایک چھوٹے سے چھوٹے عہدہ کے لئے بھی مذہب چھوڑنا پڑتا ہے بلکہ اُس سے امید کی جاتی ہے کہ وہ اپنے مذہب کو چھوڑ دے۔ابھی میری جیب میں ہی وہ خط پڑا ہے جو ڈلہوزی سے چلتے ہوئے مجھے ملا۔جب میں ڈلہوزی سے روانہ ہونے لگا تو مجھے پنجاب کے ریکروٹنگ افسر کا جو ایک انگریز ہیں خط ملا کہ انہیں بحری فوج کے افسر نے اطلاع دی ہے کہ آپ کے احمدی بعض دفعہ دوسروں کو تبلیغ کر بیٹھتے ہیں اس لئے مجھے حکم ملا ہے کہ آئندہ احمد یوں کو بحری فوج میں بھرتی نہ کیا جائے قطع نظر اس سے کہ ہم ایک قلیل جماعت ہیں یہ سلوک آج مسلمانوں کے ہر فرقہ سے ہو رہا ہے۔خواہ وہ احمدی ہوں یا کوئی اور، کیونکہ مسلمان کمزور ہیں اور کہتے ہیں کہ ”زبردست کا ٹھینگا سر پر۔نزلہ جب گرتا ہے عضو ضعیف پر ہی گرتا ہے۔اس کے مقابلہ میں ایک انگریز سرمیور گورنر یو۔پی جس کے متعلق یہ امید کی جاتی تھی کہ وہ ہر قوم سے عدل و انصاف کا سلوک کرے، جو بحری فوج سے تعلق رکھنے والے احمدیوں کی طرح کوئی رنگروٹ نہیں تھا بلکہ ایک صوبے کا گورنر تھا اور گورنر کو ایسے امور میں دخل دینے کی اجازت نہیں ہوتی پھر بھی اُس نے اپنے مذہب کی تبلیغ کی۔چنانچہ اسلام کے خلاف سب سے زیادہ کثیر الاشاعت کتاب سرمیور گورنر یو پی کی ہی لکھی ہوئی ہے۔مگر کسی نے اُس سے نہیں پوچھا کہ