انوارالعلوم (جلد 17) — Page 317
۳۱۷ تعلیم الاسلام کالج کے قیام کی اغراض انوار العلوم جلد ۱۷ خدا تعالیٰ کی توحید کا یقین ہم لڑکوں کے دلوں میں پیدا کرتے ہیں تو ہندؤوں اور سکھوں کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا کیونکہ ہندو بھی خدا کے قائل ہیں اور سکھ بھی خدا کے قائل ہیں۔اگر ہم دہریت کو مٹاتے ہیں ، اگر ہم خدا تعالیٰ کی ہستی کا یقین لڑکوں کے دلوں میں پیدا کرتے ہیں، اگر ہم اللہ تعالیٰ کی محبت کا درس اُن کو دیتے ہیں تو اُن کے ماں باپ یہ سن کر بُرا نہیں منائیں گے بلکہ خوش ہوں گے کہ ہمارے لڑکے ایسی جگہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں جہاں دُنیوی تعلیم کے ساتھ ساتھ اُن کی مذہبی لحاظ سے بھی تربیت کی جارہی ہے۔پس جہاں تک تو حید کے قیام کا سوال ہے، جہاں تک مذہب کی عظمت کا سوال ہے، جہاں تک خدا تعالیٰ کی محبت کا سوال ہے مسلمان، ہندو، سکھ ، عیسائی سب اس بات کا حق رکھتے ہیں کہ اُن کو یہ تعلیم دی جائے کیونکہ اُن کا اپنا مذہب بھی یہی باتیں سکھاتا ہے۔میرے نزدیک ہمیں ان باتوں پر اس قدر زور دینا چاہئے کہ ہمارے کالج کا یہ ایک امتیازی نشان بن جائے کہ یہاں سے جو طالب علم بھی پڑھ کر نکلتا ہے وہ خدا پر پورا یقین رکھتا ہے ، وہ اخلاق کی حفاظت کرتا ہے ، وہ مذہب کی عظمت کا قائل ہوتا ہے۔اگر ایک ہندو یہاں سے بی۔اے کی ڈگری لے کر جائے تو اُسے بھی خدا تعالیٰ کی ذات پر پورا یقین ہونا چاہئے ، اگر ایک سکھ یہاں سے بی۔اے کی ڈگری لے کر جائے تو اُسے بھی خدا تعالیٰ کی ذات پر پورا یقین ہونا چاہئے ، وہ دہریت کے دشمن ہوں ، وہ اخلاق سوز حرکات کے دشمن ہوں ، وہ مذہب کو نا قابل عمل قرار دینے والوں کے مخالف ہوں اور یورپین اثر سے پوری طرح آزاد ہوں۔وہ چاہے احمدیت کو مانتے ہوں یا نہ مانتے ہوں مگر مذہب کی بنیادی باتیں اُن کے دلوں میں ایسی راسخ ہوں کہ اُن کو وہ کسی طرح چھوڑنے کے لئے تیار نہ ہوں۔اسی طرح ہمارے کالج کا ایک امتیازی نشان یہ بھی ہونا چاہئے کہ اگر ایک عیسائی یا یہودی اس جگہ تعلیم حاصل کرے تو وہ بھی بعد میں یہ نہ کہے کہ سائنس یا حساب یا فلسفہ کے فلاں اعتراض سے مذہب باطل ثابت ہوتا ہے بلکہ جب بھی کوئی شخص ان علوم کے ذریعہ اس پر کوئی اعتراض کرے وہ فوراً اُس کا جواب دے اور کہے میں ایک ایسی جگہ سے پڑھ کر آیا ہوں جہاں دلائل و براہین سے یہ ثابت کیا جاتا ہے کہ اس دنیا کا ایک خدا ہے جو سب پر حکمران ہے میں ایسے اعتراضات کا قائل نہیں ہوں۔