انوارالعلوم (جلد 17) — Page 313
انوار العلوم جلد ۱۷ تعلیم الاسلام کالج کے قیام کی اغراض کہا تھا کہ میں ہاکی سے نفرت کرتا ہوں یہ صحت کے لئے مضر ہے۔اس سے سینہ کمزور ہو جاتا ہے کیونکہ جھک کر کھیلنا پڑتا ہے۔۵ اسی طرح بعض اور مواقع پر بھی میں توجہ دلاتا رہا ہوں کہ ہا کی قطعی طور پر صحت پر اچھا اثر پیدا نہیں کرتی بلکہ مضر اثر کرتی ہے۔ہاکی میں ہاتھ جڑے رہتے ہیں اور سانس سینہ میں پھولتا نہیں اس طرح با وجود کھیلنے کے سینہ چوڑا نہیں ہوتا ہے جب میں نے یہ بات کہی اُس وقت کسی کے وہم وگمان میں بھی یہ بات نہیں آ سکتی تھی کہ ہاکی سے سینہ کمز ور ہوکر رسل کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے۔مگر اب دوسرے لوگ بھی آہستہ آہستہ اسی طرف آرہے۔عزیزم مرزا ناصر احمد کا ان الفاظ میں کہ:۔وہ تمام قو میں جو انگریز یا انگریزی خون سے تعلق رکھنے والی ہیں ان کھیلوں کو کوئی اہمیت نہیں دیتیں اور ان کی زیادہ توجہ اتھلیٹکس ATHLETICS) کی طرف رہتی ہے اور اس وجہ سے ان قوموں کے طلباء کی صحتوں پر کوئی بُرا اثر نظر نہیں آتا غالبًا جرمنی کی طرف اشارہ ہے جہاں ان کھیلوں پر بہت کم زور دیا جاتا ہے کیونکہ ان کھیلوں پر روپیہ اور وقت زیادہ خرچ ہوتا ہے مگر صحت کو کم فائدہ پہنچتا ہے۔چنانچہ ان کھیلوں کی بجائے انہوں نے جو دوسری کھیلیں اختیار کی ہیں ان کا صحت پر بھی اچھا اثر پڑتا ہے اور روپیہ بھی کم خرچ ہوتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ دوسری کھیلوں کا رواج اب دن بدن بڑھ رہا ہے۔انگریزی ممالک میں شاید اس وجہ سے کہ وہاں کہر زیادہ ہوتی ہے اس قسم کی کھیلوں کی ضرورت سمجھی جاتی ہے جو دوڑ دھوپ والی ہوں لیکن وسطی یورپ یا جنوبی یورپ میں ان کا زیادہ رواج نہیں۔میں یورپین کھیلوں میں سب سے کم مضر فٹ بال سمجھتا ہوں کیونکہ اس سے سینہ پر بوجھ نہیں پڑتا بلکہ سینہ چوڑا اور فراخ رہتا ہے۔ہاکی میں چونکہ دونوں ہاتھ بند ہوتے ہیں اُدھر سانس سینہ میں پھولتا نہیں اس لئے ہاکی کے نتیجہ میں اکثر سینہ پر ایسا بوجھ پڑتا ہے کہ وہ کمزور ہو پڑتا جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ میں ہمیشہ ہاکی کو مصر سمجھتا رہا ہوں۔مگر اب چار پانچ سال ہوئے انگلستان میں ایک کمیشن مقرر کیا گیا تھا جس نے تحقیق کے بعد یہ رپورٹ کی ہے کہ ہا کی پلیئر میں سل کا مادہ نسبتاً زیادہ دیکھا گیا ہے۔