انوارالعلوم (جلد 17) — Page 311
انوار العلوم جلد ۱۷ تعلیم الاسلام کالج کے قیام کی اغراض ہمارا خیال ہے کہ یہ پیج کبھی ضائع نہیں ہوگا ہم اسے خدا کی طرف سے مانتے ہیں اور اس بات پر کامل یقین رکھتے ہیں کہ یہ پیج ایسا ہے جس میں سے ایک دن ایسا تناور درخت پیدا ہونے والا ہے جس کے سایہ میں بیٹھنے کے لئے لوگ مجبور ہوں گے۔اور اگر وہ نہیں بیٹھیں گے تو تپتی دھوپ۔میں وہ اپنے دماغوں کو جھلسا ئیں گے اور انہیں دنیا میں کہیں آرام کی جگہ نہیں ملے گی۔پس ہم جانتے ہیں کہ جس راستہ کو ہم نے اختیار کیا ہے وہ ضرور ہمیں کامیابی تک پہنچانے والا ہے۔کسی خیال کے ماتحت نہیں کسی وہم اور گمان کے ماتحت نہیں بلکہ اُس علیم وخبیر ہستی کے بتانے کی وجہ سے یہ یقین ہمیں حاصل ہوا ہے جو کبھی جھوٹ نہیں بولتی ، جس کی بتائی ہوئی بات کبھی غلط نہیں ہو سکتی۔یہ ہوسکتا یہ کہ جن لوگوں پر اعتبار کر کے ہم نے انہیں اس کالج میں پروفیسر مقرر کیا ہے، ان میں سے بعض نا اہل ثابت ہوں مگر ان کے نا اہل ثابت ہونے کی وجہ سے اس کام میں کو ئی نقص واقعہ نہیں ہو سکتا۔جس طرح دریا کے دہارے کے سامنے پتھر آ جائے تو وہ بہہ جاتا ہے مگر دریا کے دہارے کو وہ روک نہیں سکتا ، اسی طرح اگر کوئی شخص غلط کام کرتا ہے یا اپنے کام کے لئے کوئی غلط طریق اختیار کرتا ہے وہ احمدیت کے دریا کے سامنے کھڑا ہوتا ہے وہ اپنی تباہی کے آپ سامان پیدا کرتا ہے وہ مٹ جائے گا مگر جس دریا کو خدا نے چلایا ہے ، جس کی حفاظت کے لئے اُس نے اپنے فرشتوں کو آپ مقرر کیا ہے دنیا کی کوئی طاقت اس کے بہاؤ کو روک نہیں سکتی۔خواہ وہ یورپ کی ہو، خواہ وہ امریکہ کی ہو، خواہ وہ ایشیا کی ہو اور خواہ وہ دنیا کے کسی اور ملک کی ہو۔ہمیں نظر آ رہا ہے کہ خدا تعالیٰ کے فرشتے یورپ میں بھی اُتر رہے ہیں، امریکہ میں بھی اُتر رہے ہیں، ایشیا میں بھی اُتر رہے ہیں اور ہر شخص جو اس مشن کا مقابلہ کرتا ہے، ہر شخص جو خدا تعالیٰ کے بھیجے ہوئے پیغام کو رڈ کرتا ہے وہ اپنی ہلاکت کے آپ سامان کرتا ہے۔آج اور گل اور پرسوں اور ترسوں دن گزرتے چلے جائیں گے، زمانہ بدلتا چلا جائے گا ، انقلاب بڑھتا چلا جائے گا اور تغیر وسیع سے وسیع تر ہوتا چلا جائے گا۔روز بروز اس سلسلہ کی راہ سے روکیں دور ہوتی جائیں گی ، روز بروز یہ دریا زیادہ سے زیادہ فراخ ہوتا چلا جائے گا۔دریا کے منبع کے پاس چھوٹے چھوٹے نالے ہوتے ہیں جن پر سے ہر شخص آسانی سے کود کر گز رسکتا ہے۔میں نے خود