انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 304 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 304

انوار العلوم جلد ۱۷ ۳۰۴ تعلیم الاسلام کالج کے قیام کی اغراض ہے کہ دنیا ایک نظام کے ماتحت ہے اور اس کا ایک مرکز ہے۔مگر آپ کا یہ کہنا کہ وہی مرکز خدا ہے درست نہیں۔میں نے اُن سے کہا مجھ پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے الہامات نازل ہوتے ہیں اور کئی ایسی باتیں ہیں جو اپنے کلام اور الہام کے ذریعہ وہ مجھے قبل از وقت بتا دیتا ہے۔آپ بتائیں کہ کیا آپ جس مرکز کو خدا کہتے ہیں وہ بھی کسی پر الہام نازل کر سکتا ہے؟ وہ کہنے لگے الہام تو نازل نہیں کر سکتا۔میں نے کہا تو پھر میں کس طرح تسلیم کرلوں کہ وہی مرکز خدا ہے۔مجھے تو ذاتی طور پر اس بات کا علم ہے کہ خدا مجھ سے باتیں کرتا ہے اور وہ باتیں اپنے وقت پر پوری ہو جاتی ہیں۔کوئی بات چھ مہینے کے بعد پوری ہو جاتی ہے، کوئی سال کے بعد پوری ہو جاتی ہے، کوئی دوسال کے بعد پوری ہو جاتی ہے اور اس طرح ثابت ہو جاتا ہے کہ مجھ پر جو الہام نازل ہوتا ہے خدا کی طرف سے ہی ہوتا ہے۔پھر میں نے انہیں مثال دی اور کہا آپ مجھے بتائیں کیا آپ کا وہ کرہ جسے آپ خدا قرار دیتے ہیں کسی کو یہ بتا سکتا ہے کہ امریکہ کی طرف سے انگلستان کی مدد کے لئے اٹھائیس سو ہوائی جہاز بھجوایا جائے گا۔وہ کہنے لگے اس کرہ سے تو کوئی ایسی بات کسی کو نہیں بتائی جا سکتی۔میں نے کہا تو پھر ماننا پڑے گا کہ اِس کرے کا اور اسی طرح اور کروں کا خدا کوئی اور ہے، یہ خود اپنی ذات میں خدا نہیں ہیں کیونکہ آپ تسلیم کرتے ہیں کہ اس مرکز کے ذریعہ کسی کو کوئی خبر قبل از وقت نہیں پہنچ سکتی لیکن میں اپنے تجر بہ سے جانتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کا کلام انسان پر نازل ہوتا ہے جو کئی قسم کی غیب کی خبروں پر مشتمل ہوتا ہے۔پس آپ بیشک اس مرکز کو ہی خدا مان لیں لیکن ہم تو ایک علیم و خبیر ہستی کو خدا کہتے ہیں۔اُس کے اندر قدرت بھی ہوتی ہے، اُس کے اندر جلال بھی ہوتا ہے، اُس کے اندر حکمت بھی ہوتی ہے، اُس کے اندر بسط کی صفت بھی ہوتی ہے، اُس کے اندرخی ہونے کی صفت بھی ہوتی ہے، اُس کے اندر سمیت ہونے کی صفت بھی ہوتی ہے، اُس کے اندر حلیم ہونے کی صفت بھی ہوتی ہے، اُس کے اندر واسع ہونے کی صفت بھی ہوتی ہے غرض بیسیوں قسم کی صفات ہیں جو اُس کے اندر پائی جاتی ہیں۔اسی طرح اُس کا نور ہونا ، اُس کا وہاب ہونا، اُس کا شکور ہونا ، اُس کا غفور ہونا ، اُس کا رحیم ہونا ، اُس کا ودود ہونا ، اُس کا کریم ہونا ، اُس کا ستار ہونا اور اسی طرح اور کئی صفات کا اُس کے اندر پایا جانا ہم تسلیم کرتے ہیں۔کیا یہ صفات اس مرکز میں بھی پائی جاتی ہیں جس کو آپ خدا