انوارالعلوم (جلد 17) — Page 301
انوار العلوم جلد ۷ تعلیم الاسلام کالج کے قیام کی اغراض پروفیسروں کے ایسے ادارے بنا ئیں جو ان مختلف قسم کے اعتراضات کو جو مختلف علوم کے ماتحت اسلام پر کئے جاتے ہیں جمع کریں اور اپنے طور پر اُن کو رڈ کرنے کی کوشش کریں اور ایسے رنگ میں تحقیقات کریں کہ نہ صرف عقلی اور مذہبی طور پر وہ ان اعتراضات کو رڈ کر سکیں بلکہ خودان علوم سے ہی وہ اُن کی تردید کر دیں۔میں نے دیکھا ہے بسا اوقات بعض علوم جو رائج ہوتے ہیں محض ان کی ابتداء کی وجہ سے لوگ ان سے متاثر ہو جاتے ہیں۔ذرا کوئی تھیوری نکل آئے تو بغیر اُس کا ماحول دیکھنے اور بغیر اُس کے مَالَهُ اور مَا عَلَيْهِ پر کافی غور کرنے کے وہ ان سے متاثر ہونا شروع ہو جاتے ہیں اور اسے علمی تحقیق قرار دے دیتے ہیں۔مثلاً پیچھے سو سال سے ڈارون تھیوری نے انسانی دماغوں پر ایسا قبضہ کر لیا تھا کہ گو اس کا مذہب پر حملہ نہیں تھا مگر لوگوں نے یہ سمجھ لیا تھا کہ اس تھیوری کی وجہ سے تمام مذاہب باطل ہو گئے ہیں کیونکہ ارتقاء کا مسئلہ ثابت ہو گیا ہے۔حالانکہ جس مذہب پر اس تھیوری کا براہ راست حملہ ہو سکتا تھا وہ عیسائیت ہے، اسلام پر اس کا کوئی حملہ نہیں ہوسکتا تھا۔اسی طرح جہاں تک خدا تعالیٰ کے وجود کا علمی تعلق ہے ارتقاء کے مسئلہ کا مذہب کے خلاف کوئی اثر نہیں تھا صرف انتہائی حد تک پہنچ کر اس مسئلہ کا بعض صفات الہیہ کے ساتھ ٹکراؤ نظر آتا تھا اور درحقیقت وہ بھی غلط فہمی کا نتیجہ تھا لیکن ایک زمانہ ایسا گزرا ہے جب یہ سمجھا جاتا تھا کہ ڈارون تھیوری کے خلاف کوئی بات کہنا عقل اور سائنس پر حملہ کرنا ہے۔مگر اب ہم دیکھتے ہیں آہستہ آہستہ وہی یورپ جو کسی زمانہ میں ڈارون تھیوری کا قائل تھا اب اس میں ایک زبر دست رو اس تھیوری کے خلاف چل رہی ہے اور اب اس پر نیا حملہ حساب کی طرف سے ہوا ہے۔چنا نچہ علم حساب کے ماہرین اس طرف آرہے ہیں کہ یہ تھوری بالکل غلط ہے۔مجھے پہلے بھی اس قسم کے رسالے پڑھنے کا موقع ملا تھا مگر گزشتہ دنوں جب میں دہلی گیا تو وہاں مجھے علم حساب کے ایک بہت بڑے ماہر پروفیسر مولرے ملے جنہیں پنجاب یونیورسٹی نے پچھلے دنوں لیکچروں کے لئے بلایا تھا اور اُن کے پانچ سات لیکچر ہوئے تھے انہوں نے بتایا تھا کہ علم حساب کی رُو سے یہ قطعی طور پر ثابت کیا جا چکا ہے کہ سورج اڑتالیس ہزار سال میں اپنے محور کے گرد چکر لگاتا ہے اور جب وہ اپنے اِس چکر کو مکمل کر لیتا ہے تو اُس وقت مختلف سیاروں سے مل کر اُس کی گرمی اتنی