انوارالعلوم (جلد 17) — Page 281
انوار العلوم جلد ۱۷ ۲۸۱ زندگی وقف کرنے کی تحریک بڑے غور وفکر کے بعد میں سوائے اس کے اور کسی نتیجہ پر نہیں پہنچا کہ جب تک وہی طریق اختیار نہیں کیا جائے گا جو پہلے زمانوں میں اختیار کیا گیا تھا اُس وقت تک ہم کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے۔حضرت بدھ کے متعلق آتا ہے کہ ایک دفعہ وہ پھرتے پھراتے جب اپنے باپ کے علاقہ میں آئے تو چونکہ اُنہوں نے تاج و تخت چھوڑ دیا تھا اور جیسے ہماری شریعت میں قانون ہے کہ یتیم پوتے کو ورثہ نہیں ملتا سوائے اس کے کہ اگر دادا چاہے تو اپنی جائداد کے اُس حصہ میں سے جس کی وصیت اس کے لئے جائز ہے کچھ حصہ اُسے ہبہ کر دے۔اسی طرح اس ریاست میں یہ قانون تھا کہ اگر بیٹا بادشاہ نہ بنتا تو پوتا تاج و تخت کا وارث نہیں ہو سکتا تھا۔حضرت بدھ کے باپ کو بڑا فکر تھا کہ میرے بیٹے نے تو تخت کو چھوڑ ہی دیا تھا اس لئے میرے پوتے کے ہاتھ سے بھی بادشاہت نکل جائے گی۔ایک دفعہ اتفاقاً حضرت بدھ اسی علاقہ میں آئے تو اُن کے باپ نے اپنے پوتے کو جو دس گیارہ سال کا تھا ایک پیالہ دے کر کہا کہ جاؤ اور اپنے باپ سے بھیک مانگ لا۔مطلب یہ تھا کہ آپ نے تو گدی پر بیٹھنے سے انکار کر دیا ہے اب اپنے اس حق کو میری طرف ہی منتقل کر دیں کیونکہ اس ملک میں یہ دستور تھا کہ گوایسی حالت میں پوتا بادشاہ نہیں بن سکتا تھا لیکن اگر باپ اُس کی طرف بادشاہت منتقل کر دے تو وہ منتقل ہو جاتی تھی۔چنانچہ حضرت بدھ جہاں تعلیم دے رہے تھے وہیں اُن کا بیٹا جا پہنچا اور اُن کے سامنے ہاتھ جوڑ کر کہنے لگا مہاراج! میں اپنا حق لینے آیا ہوں۔بدھوں میں دستور ہے کہ جب وہ کسی کو بھکشو بناتے ہیں تو اُس کا سرمنڈوا دیتے ہیں جیسے عیسائی بپتسمہ دیتے ہیں۔وہ بھکشو بنانے کیلئے سرمنڈوانا ضروری سمجھتے ہیں۔جب اُس نے کہا مہاراج! میں آپ سے اپنا حق لینے آیا ہوں تو حضرت بدھ نے نائی بلایا اور اُس کا سرمنڈوا دیا۔گویا وہ تو گدی لینے گیا تھا مگر اُنہوں نے اُس کو بھی بھکشو بنالیا۔اُن کے باپ کو جب معلوم ہوا کہ بدھ نے میرے پوتے کو بھی بھکشو بنا دیا ہے تو وہ ان پر ناراض ہوا کہ تم نے آپ تو گدی چھوڑی تھی اپنے بیٹے کو بھکشو بنا کر تو تم نے اپنے خاندان کی جڑ ہی کاٹ دی اور ہماری نسل کو ہی تباہ کر دیا۔( بدھ بھکشو شادی نہیں کر سکتا اس لئے آئندہ اولاد کا چلنا ناممکن ہو گیا ) انہوں نے کہا میں کیا کرتا جب میرا بیٹا مجھ سے خیرات لینے کے لئے آیا تو میں اسے کیا دیتا میرے پاس سب سے بڑی دولت یہی تھی اس لئے میں نے اسے یہی چیز دے دی۔دنیا میرے پاس تھی نہیں کہ میں اسے دیتا