انوارالعلوم (جلد 17) — Page 272
انوار العلوم جلد ۱۷ بِسْمِ اللهِ ا اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ۲۷۲ زندگی وقف کرنے کی تحریک نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ زندگی وقف کرنے کی تحریک ( تقریر فرموده یکم مئی ۱۹۴۴ء) تشہد ، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا :- میری تحریک پر ہماری جماعت کے بہت سے دوستوں نے اپنی زندگیاں خدمت دین کیلئے وقف کی ہیں میں سمجھتا ہوں شاید قادیان میں سے ہی ساٹھ ستر بلکہ اس سے بھی زیادہ نوجوانوں نے اپنی زندگی وقف کی ہے۔وقف کا جو مفہوم اس وقت تک عمل میں آ رہا ہے اس کے لحاظ سے میں نے تبلیغی اخراجات کا ایک معمولی سا اندازہ لگایا ہے اور غور کیا ہے کہ اگر دنیا کے ایک معتد بہ حصہ میں جس طرح پانی کا ایک چھینٹا دے دیا جاتا ہے اسی طرح اگر ہم چھینٹے کے طور پر ہی تبلیغ کریں تو جماعت پر مالی لحاظ سے کتنا بار پڑ جاتا ہے۔اخراجات کا وہ معمولی اندازہ بھی ایسا ہے جو در حقیقت ہماری جماعت کی موجودہ حالت کے لحاظ سے ایک اچھا خاصہ بوجھ ہے۔مثلاً سب سے پہلے تبلیغی نقطۂ نگاہ سے ہمارے سامنے ہندوستان ہے۔ہندوستان جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنے مامور کی بعثت کیلئے منتخب فرمایا ہے اس میں اس وقت گیارہ صوبے ہیں۔سندھ ، سرحد، پنجاب، یوپی، بہار، اڑیسہ، بنگال ہی پی، بمبئی ، مدراس، آسام۔یہ وہ صوبے ہیں جو گورنروں کے صوبے ہیں۔ان کے علاوہ بلوچستان ہے، وہ بھی ایک مستقل ملک ہے۔اگر اس کو ملا لیا جائے تو بارہ بن جاتے ہیں۔پھر بعض بڑی بڑی ریاستیں ہیں جو در حقیقت صوبوں کی قائم مقام ہیں جیسے کشمیر، حیدر آباد، میسور، بڑودہ، گوالیار اور ٹراونکور ہیں۔بارہ وہ اور چھ یہ اٹھارہ ہو گئے۔اس کے بعد درمیانی درجہ کی ریاستوں میں سے بیکانیر ہے، جے پور ہے ، جودھ پور ہے یہ سب ریاستیں مل کر کئی صوبوں