انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 259 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 259

انوار العلوم جلد ۱۷ ۲۵۹ اہالیان لدھیانہ سے خطاب سٹریٹ سیٹلمنٹ کے کے بُت پرست اور عیسائی آب درود بھیجتے ہیں۔مغربی افریقہ کے تین ممالک میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہزار ہا لوگ عیسائیت سے تائب ہو کر مسلمان ہو چکے ہیں اور یہ سب کچھ میرے ذریعہ سے ہوا۔پھر میرے ہی ذریعہ مشرقی افریقہ کی پرانی اقوام ہزاروں کی تعداد میں عیسائیت یا بت پرستی کو چھوڑ کر رسول کریم ﷺ پر درود بھیجنے لگی ہیں اور اس طرح اللہ تعالیٰ نے آپ سے مقام محمود کا جو وعدہ فرمایا تھا اس کا ایک حصہ مجھ محمود کے ذریعہ بھی اس طرح پورا کرایا کہ میرے بھیجے ہوئے واعظوں کے ذریعہ ہزاروں لوگ مسلمان ہو کر آپ پر درود بھیج رہے ہیں۔وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر بھی درود بھیجتے ہیں اور وہ میرے بھی ممنون ہیں جو انہیں کھینچ کر جنت میں لے گیا اور اس طرح اللہ تعالیٰ کے فضل سے دنیا کے ہر گوشہ میں ہزاروں کی تعداد میں ایسے لوگ موجود ہیں جو میرے نام اور کام سے واقف ہیں اور جو میرے کہنے پر اسلام کی خاطر جان و مال کی قربانی کرنے کیلئے تیار ہیں اور یہ اُس فرزند کی ایک بہت بڑی علامت تھی جس کا ذکر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئی میں ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اُس کی ساٹھ علامات بیان فرمائی ہیں اور ان سب کے متعلق اس وقت میں بیان نہیں کر سکتا بلکہ آج میں جو کچھ بیان کرنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ دسمبر ۱۹۴۳ء میں میری بیوی شدید بیمار تھیں اور میں انہیں علاج کیلئے لاہور لے گیا۔وہاں ہوشیار پور ہی کے رہنے والے اور شیخ مہر علی صاحب ہوشیار پوری کی برادری سے تعلق رکھنے والے شیخ نیاز محمد صاحب کے مکان میں جس میں آجکل شیخ بشیر احمد صاحب رہتے ہیں میں ٹھہرا ہوا تھا کہ میں نے وہاں ایک رؤیا دیکھا۔اس میں شبہ نہیں کہ اُس موعود فرزند کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جو علامات بیان فرمائی ہیں اُن میں سے کئی ایک کے پورا ہونے کی وجہ سے ہماری جماعت کے بہت سے لوگ یہ کہتے تھے کہ یہ پیشگوئی میرے ہی متعلق ہے مگر میں ہمیشہ یہی کہتا تھا کہ جب تک اللہ تعالیٰ مجھے یہ حکم نہ دے کہ میں کوئی ایسا اعلان کروں میں نہیں کروں گا۔آخر وہ دن آ گیا جب خدا تعالیٰ نے میری زبان سے اس کا اعلان کرانا تھا۔ایک رات میں سویا ہوا تھا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ میں ایک مقام پر ہوں جہاں جنگ ہو رہی ہے وہاں کچھ عمارتیں ہیں ، نہ معلوم وہ گڑھیاں ہیں یاٹر نچز ہیں ، بہر حال وہ جنگ کے ساتھ تعلق رکھنے والی کچھ عمارتیں