انوارالعلوم (جلد 17) — Page 256
انوار العلوم جلد کا ۲۵۶ اہالیان لدھیانہ سے خطاب لیں اور دشمن پرحملہ کر دیں۔چنانچہ میں اُن کو اپنے ساتھ لیکر وہاں گیا۔اُس وقت لڑائی گو ہال میں ہو رہی تھی مگر ہم باہر کھڑے ہو کر اندر کا تمام نظارہ دیکھ رہے ہیں۔وہاں ایک جگہ جھاڑی دیکھ کر میں لیٹ گیا یا دو زانو ہو گیا اور میں نے کچھ فائر کئے۔ان فائدوں کے بعد اٹلی والوں کو انگریزی فوج دبانے لگی اور پھر انہی سیڑھیوں پر واپس چڑھنا شروع کیا جن پر سے اتری تھیں۔انگریزی فوج دشمن کو دباتے دباتے دوسرے سرے تک بڑھ گئی اور اُس وقت مجھے آواز آئی کہ ایسا دو تین بار ہو چکا ہے۔۵ چوہدری صاحب وائسرائے کی کونسل کے اجلاس میں شرکت کے لئے جارہے تھے ، انہوں نے کہا کہ میں یہ خواب وہاں سناؤں گا۔چنانچہ انہوں نے ممبروں سے اس کا ذکر کیا اور انہیں بتایا کہ ہمارے امام کو اللہ تعالیٰ نے بتا دیا ہے کہ لیبیا کی لڑائی میں پہلے انگریز کمزور ہوں گے مگر آخر فتح پا جائیں گے۔لیتھویٹ، وائسرائے کے پرائیوٹ سیکرٹری تھے انہوں نے کہا کہ میں یہ خواب خود امام جماعت احمدیہ کی زبان سے سنا چاہتا ہوں۔چنانچہ چوہدری صاحب اگلے روز کیلئے اُن کو چائے کی دعوت دے آئے اُنہوں نے مجھ سے کہا کہ میں یہ خواب اُن کو سناؤں۔چنانچہ میں نے سنائی اور آخر بالکل اُسی طرح ہوا جس طرح اللہ تعالیٰ نے مجھے بتایا تھا اور اللہ تعالیٰ نے میری دعاؤں سے آخری فتح انگریزوں کو عطا کر دی جیسا کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے بتایا تھا۔دشمن مصر کی سرحد کے اندر آ کر واپس بھا گا۔العالمین کے محاذ پر جب لڑائی شروع ہوئی تو مسٹر چرچل نے کہا تھا کہ اگر آب ہم یہاں سے ہٹے تو پھر قدم نہ جم سکیں گے۔العالمین کے محاذ پر ایک طرف سمندر اور دوسری طرف دلدلیں تھیں اور ایک تنگ علاقہ میں لڑائی ہو رہی تھی اور انگریز خود مانتے ہیں کہ اگر ایسا نہ ہوتا تو جرمن دائیں بائیں سے حملہ کر کے ضرور کامیاب ہو جاتے۔تو اللہ تعالیٰ نے بظا ہر شکست کو فتح سے بدل دیا اور یہ ایک ایسی بات ہے جس کے خود انگریز بھی گواہ ہیں۔غرض العالمین کے محاذ پر اللہ تعالیٰ نے اُن کو میری دعاؤں سے فتح دی۔اسی طرح اور بھی کئی واقعات ہیں۔ہماری جماعت کے ایک ڈاکٹر مطلوب خان ہیں جو گزشتہ جنگ میں شامل تھے کانگڑھ کے رہنے والے اور آنکھوں کے علاج میں شہرت رکھتے ہیں۔گزشتہ جنگ میں وہ میدانِ جنگ میں گئے ہوئے تھے کہ اُن کے بوڑھے والدین مجھ سے ملنے آئے۔اُن کے والد