انوارالعلوم (جلد 17) — Page 255
انوار العلوم جلد کا ۲۵۵ اہالیان لدھیانہ سے خطاب جماعت کا قدم بلندی کی طرف اُٹھا ہے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے قرآن کریم میں نے فرشتوں سے پڑھا ہے اور میں دعویٰ سے کہہ سکتا ہوں کہ آج اللہ تعالیٰ کے دیئے ہوئے علم کے ماتحت دنیا کے پردہ پر قرآن کریم کے مسائل کو حل کرنے کے لئے مجھ سے بڑھ کر کوئی نہیں۔اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل کے ماتحت الہام اور وحی سے ایسے معانی قرآن کریم کے مجھے سمجھائے ہیں کہ اسلام اور قرآن کریم پر سے سب اعتراضات دُور ہو جاتے ہیں اور سننے والا اس کی خوبی کو تسلیم کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔غرض یہ پیشگوئی اللہ تعالیٰ نے ایسے حالات میں پوری کی کہ بظاہر اس کے پورا ہونے کی توقع نہ کی جاسکتی تھی۔مجھ میں کوئی ذاتی خوبی نہ تھی ، کوئی علم نہ تھا مگر الہام میں کہا گیا تھا کہ وہ لڑ کا الہام الہی سے حصہ پائے گا اور اللہ تعالیٰ نے بچپن میں مجھے غیب کی خبروں سے آگاہ کیا اور اس زمانے میں تو یہ نشان اس کثرت سے ظاہر ہوا ہے کہ شدید ترین مخالف کے لئے بھی انکار کی گنجائش نہیں۔ستمبر ۱۹۴۰ ء میں میں شملہ میں چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کے ہاں ٹھہرا ہوا تھا کہ میں نے وہاں خواب میں دیکھا کہ لیبیا کی طرف سے انگریزی علاقہ کی طرف اطالوی فوجیں بڑھ رہی ہیں۔انگریزی فوجیں اُن کا مقابلہ کرتی ہیں مگر اُن کے قدم جھتے نہیں یہاں تک کہ اُنہوں نے پیچھے ہٹنا شروع کر دیا۔میدانِ جنگ مجھے ایک ہال کی شکل میں دکھایا گیا جس کی ایک طرف دروازہ کی جگہ سیڑھیاں بنی ہوئی ہیں اور وہ سیٹرھیاں اُس ہال میں اُترتی ہیں۔میں نے دیکھا کہ پہلے تو انگریزی فوجیں سیڑھیوں کے دوسرے سرے پر دشمن سے لڑ رہی ہیں مگر پھر دشمن کے دباؤ کو برداشت نہ کرتے ہوئے انہوں نے آہستہ آہستہ اپنی سیڑھیوں پر سے اُترنا شروع کیا اور دشمن کی فوجوں نے آگے بڑھنا شروع کیا۔انگریزی فوجیں لڑتی ہیں مگر پھر سیڑھیوں پر سے اترنے پر مجبور ہو جاتی ہیں یہاں تک کہ تمام سیٹرھیاں ختم ہو گئیں اور انگریزی فوجیں ہال میں اُتر آئیں اور دشمن کی فوج بھی اُن کے پیچھے ہال میں اُترنے لگ گئی جب میں نے رویا میں اس طرح انگریزی فوجوں کو پیچھے ہٹتے دیکھا تو گھبرا گیا کہ اب کیا ہو گا۔میں تیزی سے گھر کی طرف آیا اور میاں بشیر احمد صاحب کو تلاش کیا وہ مجھے ملے تو اُن سے کہا کہ ہم فوج میں داخل نہیں ہو سکتے کیونکہ ہماری صحت ایسی نہیں کہ فوج میں با قاعدہ بھرتی ہو سکیں ہم باہر سے انگریزوں کی مدد کر سکتے ہیں آپ کے پاس رائفل ہے اور میرے پاس بھی ، چلو ہم اپنی رائفلیں