انوارالعلوم (جلد 17) — Page 246
انوار العلوم جلد کا ۲۴۶ اہالیان لدھیانہ سے خطاب نے یہ پیشگوئی ۱۸۸۶ء میں کی اور میری پیدائش ۱۲ / جنوری ۱۸۸۹ء کو ہوئی اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ۲۳ / مارچ ۱۸۸۹ء کو لدھیانہ میں پہلی بیعت لی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس پیشگوئی کا ہماری جماعت میں بھی اور باہر بھی بہت چرچا ہے اور عموماً یہ سوال کیا جاتا تھا کہ وہ لڑکا کون ہے؟ پیشگوئی میں اُس لڑکے کا نام محمود بھی بتایا گیا تھا اس لئے بطور تفاؤل حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے میرا نام محمود بھی رکھا اور چونکہ اُس کا نام بشیر ثانی بھی تھا اس لئے میرا پورا نام بشیر الدین محمود احمد رکھا۔جہاں تک اولاد ہونے اور اُس کے زندہ رہنے کا تعلق تھا یہ پیشگوئی بھی پوری ہوئی اور ایک بیٹے کا نام محمو د ر کھنے کی بھی توفیق آپ کو ملی۔مگر دنیا انتظار کر رہی تھی کہ یہ پیشگوئی کس لڑکے کے متعلق ہے چنانچہ آج میں یہی بتانے کے لئے لدھیانہ میں آیا ہوں۔لدھیانہ کے ساتھ جماعت احمدیہ کا کئی رنگ میں تعلق ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے پہلی بیعت اسی شہر میں لی۔آپ کے بعد حضرت مولوی نورالدین صاحب آپ کے پہلے خلیفہ ہوئے اور اُن کی شادی لدھیانہ میں ہی حضرت منشی احمد جان صاحب مرحوم کے ہاں ہوئی تھی اور اس پیشگوئی میں جس لڑکے کا تعلق ہے وہ بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اُس بیوی کے بطن سے پیدا ہوا جولدھیانہ میں بھی رہی ہیں۔مجھے یاد ہے بچپن میں کچھ عرصہ میں بھی یہاں رہا ہوں۔میں اُس وقت اتنا چھوٹا تھا کہ مجھے کوئی خاص باتیں تو اُس زمانہ کی یاد نہیں ہیں کیونکہ اُس وقت میری عمر دو اڑھائی سال کی تھی صرف ایک واقعہ یاد ہے اور وہ یہ کہ ہم جس مکان میں رہتے تھے وہ سڑک کے سر پر تھا اور سیدھی سڑک تھی۔میں اپنے مکان سے باہر آیا تو ایک چھوٹا سا لڑ کا دوسری طرف سے آ رہا تھا۔اُس نے میرے پاس آکر ایک مری ہوئی چھپکلی مجھ پر پھینکی۔میں اس قدر دہشت زدہ ہوا کہ روتا ہوا گھر کی طرف بھاگا۔اُس بازار کا نقشہ مجھے یاد ہے وہ سیدھا بازار تھا گو اب میں نہیں جانتا کہ وہ کونسا تھا۔ہمارا مکان ایک سرے پر تھا تو میں نے کئی ماہ اپنے بچپن کی عمر کے یہاں گزارے ہیں۔پس اس شہر کا کئی رنگ میں احمدیت کے ساتھ تعلق ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مسیحیت کے دعوئی کا اعلان یہاں سے کیا ، پہلی بیعت