انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 245 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 245

انوار العلوم جلد ۱۷ ۲۴۵ اہالیان لدھیانہ سے خطاب یہ نہیں دیکھا جاتا اور اپنی فوج کے افسر سے کہا کہ آپ مجھے اجازت دیں کہ میں ان پر حملہ کروں اور ساٹھ بہادروں کو ساتھ لے کر دشمن کے لشکر کے قلب پر حملہ کر دیا۔اور ایسا شدید حملہ کیا کہ اُس کے کمانڈر کو جان بچانے کیلئے بھاگنا پڑا جس سے دشمن کے لشکر میں بھی بھگدڑ مچ گئی۔یہ جانباز ایسی بہادری سے لڑے کہ جب اسلامی لشکر وہاں پہنچا تو تمام کے تمام یا تو شہید ہو چکے تھے یا سخت زخمی پڑے تھے۔حضرت عکرمہ بھی سخت زخمی تھے۔ایک افسر پانی لے کر زخمیوں کے پاس آیا اور اُس نے پہلے عکرمہ کو پانی دینا چاہا مگر آپ نے دیکھا کہ حضرت سہیل بن عمر پانی کی طرف دیکھ رہے ہیں۔آپ نے اُس افسر سے کہا کہ پہلے سہیل کو پانی پلاؤ پھر میں پیوں گا۔میں یہ برداشت نہیں کر سکتا کہ میرا بھائی پیاس کی حالت میں پاس پڑا رہے اور میں پانی پی لوں۔وہ سہیل کے پاس پانی لے کر پہنچا تو اُن کے پاس حارث بن ہشام زخمی پڑے تھے۔سہیل نے کہا پہلے حارث کو پلاؤ۔وہ حارث کے پاس پہنچا تو وہ فوت ہو چکے تھے۔پھر وہ واپس سہیل کے پاس آیا تو وہ بھی وفات پاچکے تھے اور جب وہ مکرمہ کے پاس پہنچا تو ان کی روح بھی پرواز کر چکی تھی۔سے تو یہ مکرمہ ابو جہل کے لڑکے تھے۔پس اگر کوئی شخص شریر ہو، بے دین اور جھوٹا ہو تو کون کہہ سکتا ہے کہ اُس کا بیٹا بھی ضرور اُس جیسا ہوگا۔مگر خدا تعالیٰ کے کلام میں ایسی شہادتیں ہوتی ہیں جو اس کی صداقت کو واضح کر دیتی ہیں اور جس میں شہادت نہ ہو وہ ماننے کے قابل ہی نہیں ہوتا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اس پیشگوئی میں بھی دوسری پیشگوئیوں کی طرح بہت سی شہادتیں موجود ہیں۔آپ نے ایسے وقت میں جب قادیان کے لوگ بھی آپ کو نہ جانتے تھے یہ پیشگوئی فرمائی۔قادیان کے کئی بوڑھے لوگوں نے سُنایا ہے کہ ہم آپ کو جانتے ہی نہ تھے۔ہم سمجھا کرتے تھے کہ غلام مرتضی صاحب کا ایک ہی لڑکا مرزا غلام قادر ہے۔تو ایسا شخص جو خود گمنام ہو جسے اُس کے گاؤں کے لوگ بھی نہ جانتے ہوں یہ پیشگوئی کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اُسے اولا د دے گا جو زندہ بھی رہے گی اور اُس کے لڑکوں میں سے ایک لڑکا ایسا ہو گا جو دنیا کے کناروں تک شہرت پائے گا اور اُس کے ذریعہ اس کی تبلیغ بھی دنیا کے کناروں تک پہنچے گی۔کون ہے جو اپنے پاس سے ایسی بات کہہ سکے۔پھر آپ نے فرمایا کہ وہ لڑکا تین کو چار کرنے والا ہو گا۔اس کے یہ معنی بھی تھے کہ وہ اس پیشگوئی سے چوتھے سال میں پیدا ہو گا چنانچہ آپ